نیو یارک: قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے اسرائیلی فوجی پر حالیہ حملے میں ہلاکت اور اسرائیل کی طرف سے غزہ میں گزشتہ روز کی گئی شدید بمباری پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ بیان انہوں نے نیو یارک میں عالمی سطح کے فورم کونسل آن فارن ریلیشنز میں گفتگو کرتے ہوئے دیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ غزہ میں یہ واقعہ نہ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حماس کو یہ سمجھنا ہوگا کہ غزہ کی حکومت سے دستبردار ہونا اس کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ قطر اس معاملے میں عالمی ثالثی کے کردار کو بروئے کار لاتے ہوئے حماس پر دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ تنظیم اپنے ہتھیار چھوڑنے کی ضرورت کو محسوس کرے۔
شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے مزید کہا کہ قطر کی کوششیں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہیں کہ غزہ میں کوئی بھی تشدد یا ہتھیاروں کا استعمال علاقائی امن اور انسانی جانوں کو خطرے میں نہ ڈالے۔ انہوں نے کہا کہ قطر خطے میں ثالثی اور سفارتی کوششوں کے ذریعے غزہ میں انسانی بحران کو کم کرنے اور امن کے راستے کو فروغ دینے کے لیے سرگرم عمل ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ عالمی برادری نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تشدد فوری طور پر ختم کیا جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات کا دوبارہ آغاز ضروری ہے۔
قطر نے پچھلے مہینوں میں متعدد مواقع پر حماس اور اسرائیل کے درمیان ثالثی کی کوششیں کی ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت خطے میں استحکام کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے، اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر غزہ میں امن کے لیے مثبت اور مؤثر حل تلاش کر رہی ہے۔
شیخ محمد نے واضح کیا کہ قطر کی کوششیں حماس کو غزہ میں حکومت چھوڑنے اور ہتھیاروں سے دستبردار ہونے کے لیے دباؤ ڈالنے پر مرکوز ہیں۔ ان کے مطابق، یہ قدم نہ صرف انسانی جانوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہے بلکہ مستقبل میں خطے میں دیرپا امن قائم کرنے کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
قطر کا موقف عالمی سطح پر خطے میں امن کی ضرورت اور انسانی بحرانوں سے نمٹنے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔ وزیر اعظم نے زور دیا کہ غزہ میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مستقل سفارتی اقدامات اور ثالثی لازمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قطر اس سلسلے میں حماس اور دیگر فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ کسی بھی قسم کے نئے بحران سے بچا جا سکے۔
