اسرائیلی وزیرِ دفاع یوآو کاتز نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکہ کی قیادت میں ایک کثیر القومی فوج کو غزہ کے قدیم اور حساس علاقوں میں تعینات کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جہاں اس فوج کا بنیادی مقصدحماس کو غیر مسلح اور غیر عسکری بنانا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام اُن علاقوں میں کیا جائے گا جو اب بھی حماس کے زیرِ کنٹرول ہیں۔ ویب سائٹ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں ییلو لائن کے قریب حماس کی زیرِ زمین سرنگوں کو تباہ کرنے کا عمل تیزی اور مضبوط حکمت عملی کے ساتھ جاری ہے۔
یوآو کاتز نے ایک بیان میں بتایا کہ انہیں ڈپٹی چیف آف اسٹاف نے بریفنگ کے دوران آگاہ کیا ہے کہ سرنگوں کے خلاف خصوصی کارروائی کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی فوج اپنے کنٹرول میں موجود تمام علاقوں میں یا تو دھماکوں کے ذریعے سرنگوں کو تباہ کر رہی ہے یا پھر انہیں مائع کنکریٹ بھر کر مکمل طور پر ناکارہ بنائے جانے کا عمل جاری ہے۔ یہ کارروائیاں غزہ میں حماس کے عسکری ڈھانچے کو مکمل طور پر غیر فعال بنانے کی وسیع تر کوشش کا حصہ ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کابینہ اجلاس کے آغاز پر ایک بار پھر اس مؤقف کو دہرایا کہ غزہ کو ہر صورت غیر مسلح کیا جائے گا اور حماس کو یا تو "آسان طریقے” سے یا پھر "مشکل طریقے” سے ہتھیار ڈالنے ہوں گے۔ انہوں نے کسی بیرونی دباؤ، مشورے یا تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نہ کسی کی لیکچر کی ضرورت ہے اور نہ ہی ٹویٹس کی۔ انہوں نے واضح اعلان کیا کہ اسرائیل کی طرف سے فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت اپنی جگہ برقرار ہے اور اس مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
اس تمام صورتحال کے دوران امریکی انتظامیہ رفح کے زیرِ زمین سرنگوں میں محصور حماس کے جنگجوؤں کے مسئلے کے حل کے لیے سرگرم ہے، تاکہ غزہ کے مجوزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کی طرف پیش رفت کی جا سکے۔ تاہم تل ابیب کی جانب سے یہ شرط برقرار ہے کہ محصورین کو اس وقت تک انخلا یا محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا جب تک وہ ہتھیار ڈال کر اپنا اسلحہ حوالے نہیں کر دیتے۔
غزہ کی جنگ، سرنگوں کی تباہی اور بین الاقوامی نگرانی کا یہ ممکنہ منصوبہ خطے میں ایک نیا اسٹریٹیجک موڑ ثابت ہو سکتا ہے جو مستقبل کی سیاسی صورت حال، امن کوششوں اور عسکری کشمکش پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔
