واشنگٹن:امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نےایک اہم ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت لبنان، مصر اور اردن میں سرگرم الاخوان المسلمون (Muslim Brotherhood) کی شاخوں کو باضابطہ طور پر غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں قرار دے دیا گیا ہے۔ اس فیصلے نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی فضا میں ہلچل مچادی ہے، جبکہ متعدد ماہرین اس اقدام کو جماعت کے لیے ایک بڑا عالمی دھچکا قرار دے رہے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق یہ فیصلہ خطے میں دہشت گردی کے ماخذ، مالی معاونت اور سیاسی اثرات کو محدود کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ ایگزیکٹو آرڈر کے نفاذ سے الاخوان المسلمون سے منسلک ذیلی تنظیموں کے اثاثے منجمد کیے جا سکیں گے، فنڈنگ روکی جائے گی اور ان افراد یا اداروں پر پابندیاں لگائی جائیں گی جو ان گروہوں کے ساتھ مالی یا تنظیمی تعلق رکھتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کے معروف پروفیسرز کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات چھوڑے گا۔ ان کے مطابق امریکی حکومت نے پہلی بار الاخوان المسلمون کی مخصوص علاقائی شاخوں کو ہدف بنایا ہے۔ یہ اقدام اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکا اب جماعت کو صرف ایک سیاسی یا مذہبی تحریک نہیں بلکہ علاقائی عدم استحکام کا حصہ سمجھ رہا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے عرب دنیا میں موجود وہ ممالک بھی دباؤ کا شکار ہوں گے جو الاخوان المسلمون سے کسی نہ کسی شکل میں سیاسی یا نظریاتی روابط رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ میں جمہوریت، سیاسی اسلام اور عوامی تحریکوں کے مستقبل پر بھی اس فیصلے کے اثرات پڑ سکتے ہیں۔
خطے میں سیاسی ردعمل کی توقع
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے ممالک اس فیصلے کا خیر مقدم کریں گے، جبکہ ترکی اور قطر جیسے ممالک سخت ردعمل دے سکتے ہیں۔
امریکی پالیسی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے خطے میں سیاسی کشیدگی بڑھ سکتی ہے اور کئی ممالک داخلی سطح پر نئے چیلنجز کا سامنا کریں گے۔
الاخوان المسلمون پر عالمی دباؤ میں اضافہ
امریکی ایگزیکٹو آرڈر کے بعد توقع ہے کہ یورپی اور مشرقِ وسطیٰ کے بعض ممالک بھی اسی طرز پر تنظیم پر مزید پابندیاں عائد کریں گے، جس سے عالمی سطح پر الاخوان المسلمون کی سیاسی و تنظیمی سرگرمیوں کی راہ مزید تنگ ہو سکتی ہے۔
