رام اللہ/دبئی :فلسطینی تاریخ کےسب سےبڑے معمہ سابق فلسطینی صدر یاسر عرفات کی موت—سے متعلق ایک نیا اور نہایت اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔انکشاف کرنے والی شخصیت کوئی عام فرد نہیں بلکہ عرفات کے انتہائی قریبی ساتھی، ان کے ذاتی محافظ میجر جنرل محمد الدایہ ہیں، جو برسوں تک عرفات کے ہمراہ رہے۔
العربیہ نیٹ ورک کے پلیٹ فارم مز یِج کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں میجر جنرل الدایہ نے پہلی بار تصدیق کی کہ:
ابو عمار (یاسر عرفات) کی موت محض ایک طبی حادثہ نہیں تھا… بلکہ ایک مخصوص ’دوائی‘ کے ذریعے دیے گئے زہر کا نتیجہ تھی۔
انہوں نے اس واقعے کو "سازش” قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کی روشنی میں انگلیاں عرفات کے اپنے قریبی حلقوں کی جانب اٹھتی ہیں، جن تک رسائی اسرائیلی اداروں کے لیے بھی ممکن تھی۔
خفیہ ملاقاتوں کے حیران کن انکشافات میں بتایاکہ مز یج پوڈکاسٹ "سات کے بعد” میں نشر ہونے والی دو حصوں پر مشتمل گفتگو میں میجر جنرل الدایہ نے کئی سنسنی خیز رازوں سے پردہ اٹھایا، جن میں سب سے اہم وہ خفیہ ملاقاتیں تھیں جو یاسر عرفات نے تل ابیب اور غزہ میں اعلیٰ ترین اسرائیلی حکام کے ساتھ کیں۔
انہوں نے بتایا کہ یاسر عرفات کی ملاقات اسرائیل کےسابق وزیراعظم ایہود باراک سمیت متعدداسرائیلی سیکیورٹی شخصیات کےساتھ خفیہ طورپرہوتی رہیں،جن کا ریکارڈ کبھی سامنے نہ لایا گیا۔
اوسلومعاہدہ، پس پردہ کیا ہوا؟
میجر جنرل الدایہ نے اس انٹرویو میں اوسلو معاہدے کے پس پردہ مناظر کا بھی انکشاف کیا۔
انہوں نے اس مشہور افواہ کی سختی سے تردید کی کہ حسنی مبارک نے عرفات کو دستخط کے دوران گالیاں دیں اور کہا کہ یہ دعویٰ سیاسی پراپیگنڈہ کے سوا کچھ نہ تھا۔
گفتگو میں عرفات اور حماس کے تعلقات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔میجر جنرل الدایہ نے بتایا کہ ابوعمار نےحماس کی سیاسی و سماجی سرگرمیوں کی نہ صرف حمایت کی بلکہ عملی معاونت بھی فراہم کی۔
یہ وہ پہلو ہے جسے اسرائیلی حلقے ہمیشہ متنازع بناتے رہے ہیں۔
2004 کی موت اب بھی پراسراریاسر عرفات 11 نومبر 2004 کو پیرس کے قریب فرانسیسی فوجی اسپتال میں انتقال کر گئے تھے۔
ان کی حالت اکتوبر کے آخر میں اچانک بگڑی، جبکہ وہ 2002 سے اسرائیلی محاصرے کے دوران رام اللہ میں محصور تھے۔
فرانسیسی رپورٹس میں موت کی وجہ دماغی خون ریزی بتائی گئی، تاہم فلسطینی حلقے ہمیشہ سے زہر دیے جانے کے شبہے کا اظہار کرتے آئے ہیں۔
میجر جنرل الدایہ کی یہ تازہ گواہی اس پرانے سوال کو ایک بار پھر زندہ کر رہی ہے کیا یاسر عرفات کو واقعی قتل کیا گیا تھا؟