ریاض کے الثمامة ایئرپورٹ کا منظر آج صبح کچھ اور ہی تھا۔ جیسے ہی سورج کی پہلی کرن رَن وے پر پڑی، آسمان پر گرجتے ہوئے ایف 15 ایس اے نے پوری فضا کو لرزا دیا۔ دھواں، شور، رفتار اور نیچے موجود ہزاروں لوگ جو اپنی سانسیں روکے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ بچوں کی آنکھوں میں حیرت کی چمک، نوجوانوں کے چہروں پر جوش، اور خاندانوں کے چہروں پر مسکراہٹ… سینڈ اینڈ فن جنرل ایوی ایشن ایئر شو 2025 صرف شروع نہیں ہوا، بلکہ دھماکے سے آسمان کو روشن کر گیا۔ اسی جوش کے بیچ ایک اور بڑا اعلان ہوا—18 سرمایہ کاری معاہدے طے پا گئے، جن کی مالیت 250 ملین ریال بتائی گئی، اور یوں سعودی عرب نے ہوابازی میں اپنی نئی منزلوں کی طرف عملی قدم بڑھا دیا۔
شو کے مہمانِ خصوصی، سعودی ایوی ایشن کلب کے چیئرمین شہزادہ سلطان بن سلمان کی آمد نے ایونٹ کو نئی توانائی بخشی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدے نہ صرف جنرل ایوی ایشن کے شعبے کو آگے بڑھائیں گے بلکہ خطے کی اقتصادی ترقی میں تاریخی کردار ادا کریں گے۔ فضاؤں میں 90 سے زائد فلائنگ ڈسپلے اور نیچے 150 نمائش کنندگان کی موجودگی نے پورے ایونٹ کو ایک عالمی معیار کا میلہ بنا دیا تھا۔
ایونٹ کے نوجوان رضاکار—جنہوں نے 70 ہزار سے زیادہ گھنٹے کام کر کے اس شو کو ممکن بنایا—جگہ جگہ مصروف نظر آ رہے تھے۔ ان کے چہروں پر اعتماد اور فخر صاف جھلک رہا تھا، جیسے وہ خود سعودی عرب کے مستقبل کو اپنے ہاتھوں سے تراش رہے ہوں۔ شو میں قائم ’ٹرمنل ایکس‘ سب سے زیادہ مقبول جگہ ثابت ہوا، جہاں بچے اور نوجوان جدید سمیولیٹرز میں بیٹھ کر پہلی بار پائلٹ بننے کا احساس پا رہے تھے۔ ان کی ہنسی، ان کی حیرت، اور ان کی امیدیں—سب کچھ اس بات کا اعلان کر رہی تھیں کہ آنے والی نسلیں بھی آسمانوں سے دوستی کرنے کو تیار ہیں۔
منظمین کا کہنا ہے کہ 29 نومبر تک جاری یہ شو دو لاکھ سے زائد افراد کو اپنی طرف کھینچے گا۔ صرف تفریح نہیں، بلکہ یہ ایونٹ سعودی وژن 2030 کے اس بڑے خواب کی عملی تصویر ہے جس میں مملکت کو خطے کی ہوابازی کا مینوفیکچرنگ ہب بنایا جا رہا ہے۔ سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، روزگار کے نئے مواقع اور عالمی اعتماد—سب ایک ہی جگہ جمع ہو گئے ہیں۔
ریاض کا آسمان آج صرف جہازوں کی آوازوں سے نہیں گونجا بلکہ ایک نئے سعودی عرب کی اُڑان کے اعلان سے بھی روشن ہوا۔ یہ صرف ایئر شو نہیں… یہ مستقبل کی پہلی اڑان ہے۔
