ہالینڈ کے وزیرِ خارجہ ڈیوڈ فان فیل نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ” اور "الحدث ڈاٹ نیٹ” کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ نیدرلینڈ ریاض کے ساتھ اپنی شراکت کو ایک نئی اسٹریٹجک بلندی تک لے جانے کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہالینڈ، سعودی عرب کو نہ صرف عالمی سیاست میں ایک بااثر جیو پولیٹیکل طاقت سمجھتا ہے بلکہ خطے کے امن، استحکام اور مستقبل کے اقتصادی توازن کا ایک مضبوط ستون بھی قرار دیتا ہے۔
وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا دائرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے اور مستقبل میں اس میں اقتصادی، تجارتی، توانائی، ٹیکنالوجی، زرعی ماڈیولز، ڈیجیٹل اکنامی، کاربن فری عمارتوں، ماحول دوست ٹیکنالوجی اور تفریحی صنعت جیسے اہم شعبے شامل ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ہالینڈ کی وزیر تجارت و ترقی اوکے ڈی فریس بہت جلد ایک بڑے تجارتی وفد کے ہمراہ ریاض پہنچیں گی، جس سے دوطرفہ سرمایہ کاری کے نئے در وا ہوں گے اور دونوں ملک مشترکہ معاشی اہداف کے لیے مضبوط بنیادیں رکھ سکیں گے۔
فان فیل نے بتایا کہ سعودی عرب اور ہالینڈ کے تاریخی روابط ایک صدی سے زیادہ پر محیط ہیں،ان کی ابتدا 1872ء میں جدہ میں پہلے ڈچ قونصل خانے کے قیام سے ہوئی، جو دونوں اقوام کے دیرینہ اعتماد اور باہمی احترام کی گواہی ہے۔
سیاسی اور سفارتی اعتماد میں اضافہ
ڈچ وزیر خارجہ نے اعتراف کیا کہ سعودی عرب خطے میں امن کے لیے جس مرکزی کردار کے ساتھ سفارتی کوششیں کر رہا ہے، وہ عالمی سطح پر انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی قیادت کا دو ریاستی حل پر واضح اور اصولی مؤقف عالمی ضمیر کی آواز سے ہم آہنگ ہے۔ ہالینڈ نہ صرف اس حل کی حمایت کرتا ہے بلکہ ریاض کی سفارتی کوششوں کا شراکت دار بھی ہے۔
انہوں نے یوکرین بحران پر سعودی کردار کو ’’انتہائی مؤثر‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاض نے امریکہ، روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کے لیے جو ماحول تشکیل دیا وہ قابلِ تعریف ہے۔
اقتصادی شراکت… ریکارڈ بلندیوں پر
تجارتی اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب اور ہالینڈ کے درمیان تجارت کا حجم موجودہ سال میں 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ خلیجی خطے میں سعودی عرب ہالینڈ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ فان فیل نے بتایا کہ موجودہ معاشی تعاون چار بنیادی ستونوں،توانائی کی تجدید، توانائی کی منتقلی، ری سائیکلنگ معیشت، پائیدار خوراک اور ڈیجیٹلائزیشن — پر استوار ہے، جو براہِ راست سعودی وژن 2030 سے مطابقت رکھتا ہے۔
اس وقت 100 سے زائد ڈچ کمپنیاں سعودی عرب میں سرگرم ہیں جبکہ ہالینڈ میں سعودی کمپنیوں ارمکو اور سابک کی سرمایہ کاری سے 3500 سے زیادہ ملازمتیں پیدا ہو چکی ہیں۔
غزہ، خطے کے بحران اور ٹرمپ امن پلان
ڈچ وزیر خارجہ نے غزہ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا اس وقت فلسطینی ریاست کے قیام کو پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس کو اپنے ہتھیار ڈالنے ہوں گے اور وہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کا حصہ نہیں ہونی چاہیے۔ فان فیل نے ٹرمپ کے جنگ بندی منصوبے کو خطے کی سیاست میں ایک اہم موڑ قرار دیا اور کہا کہ ہالینڈ اس کے دوسرے مرحلے کے نفاذ میں تعاون بڑھائے گا۔
سوڈان… دنیا کا بدترین انسانی المیہ
فان فیل نے کہا کہ سوڈان میں جاری بحران ’’دنیا کا سب سے بڑا انسانی المیہ‘‘ بن چکا ہے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہو رہے ہیں اور صورت حال مزید بگڑتی جا رہی ہے۔ انہوں نے فوری جنگ بندی، شہریوں کی حفاظت اور امداد کی مؤثر ترسیل پر زور دیا۔
یوکرین جنگ… مذاکرات کا نیا رخ
ڈچ وزیر خارجہ نے کہا کہ یوکرین نے جنگ بندی کی تجویز قبول کر کے مثبت کردار ادا کیا ہے، مگر روس اب بھی مذاکراتی پیش رفت میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ خطے کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اجتماعی اقدامات ضروری ہیں۔
