عراق کے صوبہ انبار میں امریکا نے ایران کے حمایت یافتہ گروپ پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) کے ہیڈ کوارٹر پر ایک بڑے فضائی حملے میں 104 جنگجو ہلاک کر دیے، جس میں اعلیٰ کمانڈر سعد الباجی بھی شامل ہیں۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب پی ایم ایف کے اعلیٰ کمانڈرز کی میٹنگ جاری تھی، جس کا مقصد گروپ کی قیادت کو نشانہ بنانا اور ان کی کارروائیوں کو محدود کرنا بتایا گیا ہے۔ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور حملے کے فوری بعد علاقے میں شدید ہلچل دیکھنے میں آئی۔
ادھر شمالی اربیل میں کُرد فورس کے ایک اڈے کو بھی میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 6 کُرد جنگجو ہلاک اور 22 زخمی ہوئے۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ یہ حملہ کس جانب سے کیا گیا اور نہ ہی کسی نے ذمہ داری قبول کی ہے، جس نے خطے میں غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فضائی اور میزائل حملے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے نئے اور خطرناک مرحلے کا آغاز ہو سکتے ہیں۔ امریکی حملے نے ایران کے حمایت یافتہ گروپوں پر براہِ راست دباؤ ڈال دیا ہے، جس کے نتیجے میں ممکنہ جوابی کارروائیاں خطے کی سیکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔ تجزیہ کاروں نے انتباہ کیا ہے کہ ایسے حملوں کے اثرات صرف عراق تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ توانائی کی عالمی مارکیٹس، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی سیاسی تعلقات پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
عراق میں موجود بین الاقوامی فورسز اور مقامی سیکیورٹی حکام نے حملے کے بعد فوراً حفاظتی اقدامات سخت کر دیے ہیں، جبکہ امریکا نے واضح کیا ہے کہ اس کا مقصد دہشتگرد گروپوں کی صلاحیتوں کو کم کرنا ہے۔ دوسری جانب، پی ایم ایف اور کُرد فورس کے رہنماؤں نے بھی ممکنہ ردعمل کے لیے اپنے آپریشنز کو مزید متحرک کر دیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
خطے کے سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ حملے ایک مرتبہ پھر ایران، امریکا، اسرائیل اور عراق میں موجود دیگر طاقتوں کے درمیان تناؤ کو اجاگر کرتے ہیں اور مستقبل میں مشرق وسطیٰ میں بڑے اور پیچیدہ فوجی اور سیاسی فیصلوں کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ عالمی برادری اور خطے کے شراکت دار اس وقت کشیدگی کو کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے بحران کو قابو میں رکھنے کی کوششیں کر رہے ہیں، تاہم حالات انتہائی نازک اور غیر یقینی ہیں۔
