سلطنت عمان کے سلطان ہیثم بن طارق کا سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز کو ایک اہم خط منگل کے روز موصول ہوا، جس میں دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات، مشترکہ مفادات اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تفصیل سے بات کی گئی۔ یہ خط عمانی سفیر نجیب بن ہلال بن سعود البوسیدی نے سعودی وزارت خارجہ میں منعقدہ ایک استقبالیہ کے دوران سعودی نائب وزیر خارجہ انجینئر ولید بن عبدالکریم الخریجی کے ذریعے پہنچایا۔
سعودی پریس ایجنسی (SPA) کے مطابق، خط میں نہ صرف دونوں ممالک کے مابین موجودہ تعلقات کو مستحکم کرنے کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئی ہیں، بلکہ اس میں خطے میں پیدا ہونے والی جدید صورتحال پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس خط کے ذریعے دونوں رہنماؤں کے درمیان مختلف اہم مسائل پر بات چیت کی گئی، جن میں عالمی اور خطے کی سطح پر موجودہ سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی صورتحال شامل ہے۔
نائب وزیر خارجہ انجینئر ولید الخریجی نے اس بات کا ذکر کیا کہ یہ خط سعودی عرب اور عمان کے درمیان دیرینہ دوستی اور تعاون کی علامت ہے، جو خلیج تعاون کونسل (GCC) کے رکن ہونے کے ناطے دونوں ممالک کے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا باعث بنے گا۔ سعودی عرب اور عمان کی یہ شراکت داری خلیج تعاون کونسل میں ایک اہم ستون کے طور پر جانی جاتی ہے، اور یہ دونوں ممالک کی مشترکہ پالیسیوں، اقتصادی ترقی اور خطے میں امن و استحکام کے قیام میں ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔
اس خط میں خاص طور پر یہ بات کی گئی ہے کہ سعودی عرب اور عمان کی حکومتیں دونوں ملکوں کے عوام کے مفاد میں مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے تیار ہیں۔ اس میں توانائی، تجارت، دفاع، ثقافت اور تعلیم جیسے مختلف شعبوں میں مشترکہ اقدامات کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
عمان اور سعودی عرب کی اس شراکت داری کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ دونوں ممالک اپنی علاقائی سلامتی، معاشی ترقی، اور بین الاقوامی تعلقات میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سعودی عرب اور عمان کی قیادت خطے میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی، اقتصادی مشکلات اور سیکیورٹی چیلنجز کے باوجود اپنی جغرافیائی اور اقتصادی اہمیت کے پیش نظر آپس میں گہری مشاورت اور تعاون جاری رکھنے پر پرعزم ہے۔
یاد رہے کہ دونوں ممالک خلیج تعاون کونسل (GCC) کے رکن ہیں، جس کا مقصد خطے میں اقتصادی، سیکیورٹی اور سیاسی استحکام کی کوششیں کرنا ہے۔ اس خط کے ذریعے سعودی عرب اور عمان نے اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا عہد کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین تعاون اور باہمی احترام کا سلسلہ جاری رہے گا۔
خط میں جہاں دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات کی بات کی گئی ہے، وہیں اس بات کا بھی تذکرہ کیا گیا کہ سعودی عرب اور عمان خطے کی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں اور دونوں ملک مل کر عالمی سطح پر امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ عمان اور سعودی عرب کے رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے مابین بڑھتا ہوا تعاون خطے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا اور عالمی سطح پر دونوں ممالک کو مزید طاقتور اور مستحکم بنائے گا۔
یہ خط سعودی عرب اور عمان کے درمیان ایک نئے عہد کی نشاندہی کرتا ہے جس میں دونوں ممالک نہ صرف اپنے موجودہ تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے کام کریں گے بلکہ مستقبل میں ایک دوسرے کے ساتھ مشترکہ اقتصادی، سیاسی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں گے۔
