اسلام آباد: پاکستان میں تعینات سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید احمد المالکی نے خلیجی خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ایران کی جانب سے سعودی عرب اور دیگر خلیجی برادر ممالک پر حملوں کو انتہائی تشویشناک، بلاجواز اور کھلی جارحیت قرار دیا ہے۔
سعودی سفیر نواف المالکی نے اپنے بیان میں کہا کہ حالیہ حملے نہ صرف علاقائی سالمیت کے لیے سنگین خطرہ ہیں بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خودمختاری کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی بھی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے اقدامات مشرقِ وسطیٰ جیسے حساس خطے کو مزید عدم استحکام سے دوچار کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک نے ہمیشہ امن، سفارتکاری اور باہمی احترام کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں ایران کی جانب سے عسکری کارروائیاں کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق یہ حملے نہ صرف ریاستی ڈھانچے بلکہ عام شہریوں کے تحفظ کے لیے بھی خطرہ بن رہے ہیں۔
سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک اپنی سرحدوں، عوام اور اہم تنصیبات کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم امن کے خواہاں ہیں، لیکن اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
نواف المالکی نے عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ اور بڑے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ان کے مطابق اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو اس کے اثرات نہ صرف خلیجی خطے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک وسیع تر جغرافیائی و سیاسی تناؤ کا حصہ ہے، جہاں مختلف طاقتیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں۔ خلیجی ممالک خاص طور پر اپنی توانائی تنصیبات، تیل کے ذخائر اور اہم انفراسٹرکچر کے تحفظ کے حوالے سے شدید خدشات کا شکار ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں پہلے ہی مختلف تنازعات جاری ہیں اور سفارتی کوششیں توازن قائم رکھنے کے لیے جاری ہیں۔ سعودی عرب کا سخت مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب خلیجی ممالک اپنی سکیورٹی پالیسی میں مزید سختی اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان، جو سعودی عرب کا قریبی اتحادی ہے، اس صورتحال میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسلام آباد ماضی میں بھی مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں ثالثی کی کوششیں کرتا رہا ہے اور موجودہ بحران میں بھی اس سے مثبت کردار کی توقع کی جا رہی ہے۔
