ریاض: سعودی عرب نے اسرائیل کے کنیسٹ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے اور وادی اردن پر اپنے قبضے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ سعودی عرب کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یہ اسرائیلی اقدام دو ریاستی حل کے ذریعے امن قائم کرنے کی عالمی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور اسرائیل کے تخریبی عزائم کو ظاہر کرتا ہے۔
سعودی عرب نے فلسطینی عوام کے حقوق، خاص طور پر حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ 1967 کی سرحدوں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور القدس کو اس کا دارالحکومت بنانے کے حق میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
بحرین، مصر، انڈونیشیا، اردن، نائجیریا، فلسطین، قطر، ترکی، متحدہ عرب امارات، عرب لیگ، اور اسلامی تعاون تنظیم نے بھی اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے پر نام نہاد "اسرائیلی خودمختاری” کے نفاذ کے اعلان کی شدید مذمت کی ہے۔ ان ممالک اور تنظیموں نے اس اقدام کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی سنگین پامالی قرار دیا ہے، جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قبضے اور آبادکاری کی تمام کارروائیوں کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دیتی ہیں۔
سعودی وزارت خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی حکومت کے ان اشتعال انگیز اقدامات کے خلاف فوری طور پر ایکشن لے اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے۔ سعودی عرب نے اس عزم کا بھی اظہار کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کی حمایت میں ہر سطح پر آواز بلند کرتا رہے گا، اور اس بات پر زور دیا کہ امن اور استحکام کے لیے اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی روکنا ضروری ہے۔
وزارت خارجہ نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ اسرائیلی حکومت کے ایسے اقدامات بین الاقوامی سطح پر فلسطینی حقوق کے تحفظ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش ہیں اور ان اقدامات کا مقصد فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کا قبضہ مستحکم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ عالمی برادری کو ان اقدامات کے خلاف فوری طور پر اقدام کرنا چاہیے تاکہ فلسطین میں امن اور انصاف کی راہ ہموار ہو سکے۔
