تحریر:عمران علی خان
نو ڈیل،مگر کہانی ابھی باقی ہے۔ اکیس گھنٹے طویل مذاکرات، تین مختلف دور، ایک میز اور بے شمار توقعات کے باوجود ایران اور امریکا کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے، لیکن اس ناکامی کے شور میں بھی ایک عجیب سی خاموش امید باقی رہ گئی ہے۔ 12 اپریل 2026 کی صبح ساڑھے چھ بجے اسلام آباد جاگ رہا تھا جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سرینا ہوٹل کے باہر آئے اور چند جملوں میں پوری دنیا کو خبر دے دی کہ مذاکرات بغیر معاہدے کے ختم ہو گئے ہیں۔ مگر ان کے لہجے میں نہ شکست تھی نہ فتح، بلکہ ایک ایسی سفارتی احتیاط تھی جس میں ہر لفظ تول کر رکھا گیا تھا۔
وینس نے سب سے پہلے پاکستان کے کردار کو سراہا اور کہا کہ میزبان ملک نے غیر معمولی طور پر دونوں فریقوں کے درمیان فاصلے کم کرنے کی کوشش کی۔ یہ محض تعریف نہیں تھی بلکہ سفارتی زبان میں ایک واضح اشارہ تھا کہ پاکستان اب خطے کے حساس تنازعات میں صرف تماشائی نہیں بلکہ ایک قابل اعتماد ثالث کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ اسی لمحے یہ بھی واضح ہو گیا کہ واشنگٹن اسلام آباد کے کردار سے مطمئن ہے اور مستقبل میں بھی اسی پلیٹ فارم کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔
اصل مسئلہ مگر تعریفوں سے کہیں زیادہ گہرا تھا۔ امریکا کا مطالبہ ایک ہی نکتے پر مرکوز رہا—ایران کی جانب سے ایسی واضح اور طویل المدتی یقین دہانی کہ وہ کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور نہ ہی اس سمت میں کسی بھی صلاحیت کو ترقی دے گا۔ وینس کے مطابق یہی وہ بنیادی رکاوٹ تھی جس پر پیش رفت ممکن نہ ہو سکی۔ ان کے الفاظ تھے کہ امریکا نے “کافی لچک اور معاونت” دکھائی، مگر ایرانی فریق مطلوبہ یقین دہانی دینے پر آمادہ نہ ہو سکا۔
یہاں سے کہانی دو مختلف سمتوں میں بٹ جاتی ہے۔ امریکا کے بیانیے میں یہ ایک اختتامی مرحلہ ہے، ایک ایسا مقام جہاں بات چیت رک گئی ہے کیونکہ شرائط پوری نہیں ہوئیں۔ مگر ایران کے موقف میں یہ کہانی ختم نہیں ہوتی بلکہ صرف ایک وقفہ لیتی ہے۔ تہران کے مطابق مذاکرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے بلکہ جاری عمل کا حصہ ہیں اور آئندہ دنوں میں تکنیکی سطح پر مزید رابطے بھی متوقع ہیں۔ ایک ہی واقعہ، مگر دو مختلف تشریحات اور دونوں اپنی اپنی جگہ حقیقت کے قریب۔
وینس نے ایک اور اہم جملہ کہا کہ امریکا “کافی لچکدار” رہا، جو سفارت کاری میں ایک غیر معمولی اعتراف سمجھا جاتا ہے۔ اس کے پیچھے یہ پیغام بھی چھپا تھا کہ اگر معاہدہ نہیں ہوا تو اس کی ذمہ داری یکطرفہ نہیں ڈالی جا سکتی۔ یوں گفتگو کا رخ بار بار ایران کی جانب موڑ دیا گیا کہ “انہوں نے فیصلہ کیا”۔ مگر سوال یہ ہے کہ فیصلہ واقعی کس نے کیا، اور کس حد تک یہ فیصلہ حالات کا نتیجہ تھا؟
پس منظر میں ماہرین یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد کا بحران دہائیوں پر محیط ہے، اور ایسی میزیں صرف چند گھنٹوں میں اس خلیج کو ختم نہیں کر سکتیں۔ 47 سال بعد ہونے والی یہ براہ راست ملاقات خود ایک غیر معمولی پیش رفت تھی، جہاں تین مراحل میں بالواسطہ، براہ راست اور تکنیکی سطح کی بات چیت ہوئی، اور فریقین پہلی بار ایک دوسرے کے اتنے قریب آئے کہ اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔
اب سب سے بڑا سوال آنے والے دنوں کا ہے، کیونکہ 22 اپریل کو جنگ بندی ختم ہو رہی ہے اور صرف چند دن باقی ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں سفارت کاری کا امتحان ختم نہیں ہوا بلکہ اصل خطرہ شروع ہوتا ہے۔ ایک طرف اگر بات چیت آگے بڑھتی ہے تو یہ مذاکرات دوبارہ کسی میز پر زندہ ہو سکتے ہیں، اور دوسری طرف اگر تعطل بڑھا تو صورتحال ایک بار پھر کشیدگی کی طرف جا سکتی ہے۔
اس پورے عمل میں پاکستان ایک خاموش مگر مرکزی کردار کے طور پر سامنے آیا ہے۔ وینس کا یہ جملہ کہ “جو بھی کمی رہی وہ پاکستانیوں کی وجہ سے نہیں” دراصل ایک سفارتی سرٹیفکیٹ ہے، ایک ایسی توثیق جو آنے والے دنوں میں پاکستان کو مزید حساس مذاکراتی کردار دے سکتی ہے۔ اسلام آباد نے نہ صرف دو بڑے فریقوں کو ایک میز پر بٹھایا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ بعض اوقات چھوٹے الفاظ بڑے تنازعات کو روک سکتے ہیں۔
اکیس گھنٹے ضائع نہیں ہوئے۔ ان گھنٹوں میں صرف مذاکرات نہیں ہوئے بلکہ اعتماد کے ٹکڑے جوڑے گئے، سرخ لکیریں واضح ہوئیں اور سب سے اہم بات یہ کہ بات چیت کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ سیاست میں کبھی کبھی سب سے بڑی کامیابی معاہدہ نہیں بلکہ جنگ کو کچھ وقت کے لیے مؤخر کرنا ہوتی ہے۔
اب دنیا ایک بار پھر اسی موڑ پر کھڑی ہے جہاں فیصلے صرف بیانات سے نہیں بلکہ آنے والے چند دنوں کی خاموش سفارت کاری سے ہوں گے۔ ایران اپنے بیانیے پر قائم ہے کہ بات جاری ہے، امریکا اپنے موقف پر ڈٹا ہے کہ معاہدہ نہیں ہوا، اور پاکستان ایک ایسے پل کے طور پر موجود ہے جس کے نیچے سے تاریخ کا دریا بہہ رہا ہے۔
کہانی ختم نہیں ہوئی۔ اصل میں کہانی شاید ابھی شروع ہی ہوئی ہے۔
