ہجرتوں کی کہانی دراصل پاکستان کی موجودہ معاشی، سماجی اور روزگار کی صورتحال کی عکاس ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، صنعتوں کی بندش اور آمدن و اخراجات کے توازن میں بگاڑ نے لاکھوں پاکستانیوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ بہتر مستقبل کی تلاش شاید سرحدوں کے اُس پار ہی ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2021 سے 2025 تک پاکستان سے بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، جو محض ایک عددی رجحان نہیں بلکہ ایک اجتماعی مجبوری کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے ذریعے 2021 میں تقریباً دو لاکھ اٹھاسی ہزار دو سو اسی پاکستانیوں نے بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹریشن کروائی۔ یہ وہ سال تھا جب کورونا وبا کے اثرات ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئے تھے، اس کے باوجود خلیجی ممالک میں تعمیرات اور سروسز کے شعبوں کی بحالی نے پاکستانی افرادی قوت کے لیے نئے مواقع پیدا کیے۔
2022 میں حالات نسبتاً بہتر ہوئے تو بیرونِ ملک جانے والوں کی تعداد میں یکدم بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور سرکاری ریکارڈ کے مطابق آٹھ لاکھ انتیس ہزار پانچ سو انچاس پاکستانی روزگار کی غرض سے ملک سے باہر گئے، جو اس وقت تک کی بلند ترین سطحوں میں شمار ہوتی ہے۔
یہ سلسلہ 2023 میں مزید شدت اختیار کر گیا، جب ملک میں مہنگائی کی شرح تاریخی سطحوں پر پہنچی، روپے کی قدر میں شدید کمی آئی اور بے روزگاری میں واضح اضافہ ہوا۔ انہی حالات کے نتیجے میں 2023 میں آٹھ لاکھ باسٹھ ہزار چھ سو پچیس پاکستانیوں نے بیرونِ ملک روزگار کے لیے قانونی طور پر رجسٹریشن کروائی۔ یہ تعداد نہ صرف 2022 سے زیادہ تھی بلکہ اس نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان میں روزگار کا بحران وقتی نہیں بلکہ ساختی نوعیت اختیار کر چکا ہے۔
2024 میں اگرچہ خلیجی ممالک کی جانب سے ویزا پالیسیوں میں کچھ سختی دیکھی گئی، بالخصوص متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں کوٹہ سسٹم کے نفاذ کے بعد، اس کے باوجود سات لاکھ ستائیس ہزار تین سو اکیاسی پاکستانی بیرونِ ملک گئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں حالات اب بھی عوام کے لیے اطمینان بخش نہیں تھے۔ 2025 کے ابتدائی گیارہ ماہ کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چھ لاکھ ستاسی ہزار دو سو چھیالیس پاکستانی بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹر ہو چکے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ رجحان تاحال برقرار ہے اور مستقبل قریب میں اس میں کمی کے آثار نظر نہیں آتے۔
اگر 2021 سے 2025 تک کے تمام سرکاری اعداد و شمار کو یکجا کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ کم از کم چونتیس لاکھ کے قریب پاکستانی، یعنی تقریباً 3,395,081 افراد، گزشتہ پانچ برسوں میں قانونی طور پر بیرونِ ملک روزگار کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ یہ تعداد صرف ان افراد پر مشتمل ہے جو سرکاری نظام کے تحت رجسٹر ہوئے، جبکہ ذاتی ویزوں یا غیر رسمی ذرائع سے جانے والوں کو شامل کیا جائے تو مجموعی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
بیرونِ ملک جانے والے پاکستانیوں کی اکثریت نے خلیجی ممالک کا رخ کیا، جہاں سعودی عرب بدستور سب سے بڑی منزل رہا۔ اس کے بعد متحدہ عرب امارات، عمان، قطر اور بحرین نمایاں رہے۔ ان ممالک میں پاکستانی افرادی قوت کو تعمیرات، ٹرانسپورٹ، سروسز، گھریلو ملازمت اور صنعتی شعبوں میں روزگار ملا۔ گزشتہ چند برسوں میں یورپ اور برطانیہ کی جانب بھی ہنرمند اور تعلیم یافتہ پاکستانیوں کا رجحان بڑھا، جس نے برین ڈرین کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا۔
ان ہجرتوں کا ایک اہم پہلو پاکستان کو حاصل ہونے والا زرِ مبادلہ ہے، جسے ترسیلاتِ زر کہا جاتا ہے۔ بیرونِ ملک کام کرنے والے پاکستانی اپنی آمدن کا بڑا حصہ وطن بھیجتے ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ سرکاری اور مستند معاشی رپورٹس کے مطابق مالی سال 2024-25 میں پاکستان کو تاریخ کی بلند ترین ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں، جو تقریباً 38.3 ارب امریکی ڈالر رہیں۔ یہ رقم گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ تھی اور اس نے زرمبادلہ کے ذخائر، کرنٹ اکاؤنٹ اور درآمدات میں پاکستان کو سہارا دیا۔
ان ترسیلات میں سب سے بڑا حصہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک سے آیا۔ بعض مہینوں میں ماہانہ ترسیلات چار ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بیرونِ ملک پاکستانی نہ صرف اپنے خاندانوں کی کفالت کر رہے ہیں بلکہ ملکی معیشت کو بھی سہارا دے رہے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ اتنی بڑی تعداد میں نوجوان اور ہنرمند افراد کا ملک سے باہر جانا اندرونِ ملک صنعت، تعلیم، صحت اور تحقیق جیسے شعبوں کو کمزور کر رہا ہے۔
یوں 2021 سے 2025 تک کی ہجرتوں کی یہ کہانی ایک طرف تو زرِ مبادلہ، معاشی سہارا اور لاکھوں خاندانوں کی بقا کی داستان ہے، مگر دوسری جانب یہ پاکستان کے لیے ایک سنجیدہ سوال بھی چھوڑ جاتی ہے کہ کیا ملک اپنے شہریوں کو وہ مواقع فراہم کرنے میں ناکام ہو چکا ہے جن کی تلاش میں وہ بیرونِ ملک جانے پر مجبور ہیں۔ اگر اندرونِ ملک پائیدار روزگار، صنعتی ترقی اور نوجوانوں کے لیے قابلِ اعتماد معاشی راستے پیدا نہ کیے گئے تو یہ ہجرت محض ایک رجحان نہیں بلکہ مستقل قومی حقیقت بن سکتی ہے۔
