کچھ حلقوں میں ایک ایسا بیانیہ تیزی سے ابھر رہا ہے جس میں خلیجی عرب ریاستوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کو اس بنیاد پر جائز قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ان ممالک میں غیر ملکی فوجی شراکت داری موجود ہے۔ یہ مؤقف نہ صرف گمراہ کن ہے بلکہ اصولی طور پر بھی کمزور ہے۔ یہ بین الاقوامی تعلقات کے ایک بنیادی اصول—خودمختاری—کو نظر انداز کرتا ہے۔ کوئی بھی ریاست محض اس وجہ سے اپنے تحفظ، استحکام اور دفاع کے حق سے دستبردار نہیں ہو جاتی کہ وہ اسٹریٹجک شراکت داری رکھتی ہے۔ اس کے برعکس مؤقف اختیار کرنا دراصل خودمختاری اور علاقائی استحکام کی بنیادوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
سعودی عرب اور اس کے خلیجی شراکت داروں کا مؤقف اس حوالے سے بالکل واضح ہے۔ وہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کے فریق نہیں ہیں۔ نہ انہوں نے جنگ کا اعلان کیا ہے اور نہ ہی کشیدگی میں اضافہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ بلکہ اس کے برعکس، انہوں نے مسلسل یہ یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ ان کی سرزمین اور فضائی حدود کسی بھی جارحیت کے لیے استعمال نہ ہوں۔ یہ رویہ تحمل، ذمہ داری اور خطے کو مزید تصادم سے بچانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ خلیجی ممالک کو جائز ہدف قرار دینے کی کوئی بھی کوشش اس حقیقت کو نظر انداز کرتی ہے۔
اس جواز کی کمزوری اس وقت مزید واضح ہو جاتی ہے جب حملوں کی نوعیت کو دیکھا جائے۔ میزائل اور ڈرون حملے کسی محدود دائرے میں نہیں رہتے بلکہ وہ توانائی کے مراکز، رہائشی علاقوں اور بنیادی سہولیات کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ ان کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی منڈیوں، سپلائی چینز اور معاشی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ اس تناظر میں خلیج کو نشانہ بنانا محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی تشویش کا باعث ہے۔
سعودی عرب کا ردِعمل اس تمام صورتحال میں متوازن مگر مضبوط رہا ہے۔ مملکت نے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے، جبکہ اپنے دفاع اور عوام کے تحفظ کے حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ یہ حکمت عملی—یعنی اشتعال کے بغیر مؤثر دفاع—اعلیٰ سطح کی حکمت اور تدبر کی متقاضی ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پائیدار سلامتی جذباتی ردعمل سے نہیں بلکہ ذمہ دارانہ اور منظم فیصلوں سے حاصل ہوتی ہے۔
یہ بھی ایک اہم حقیقت ہے کہ جنگ کو وسعت دینے کا تصور خود ایران کے لیے بھی ایک اسٹریٹجک غلطی ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر تنازع خلیجی خطے تک پھیلتا ہے تو اس سے علاقائی صف بندی کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط ہو گی۔ جوں جوں خلیجی دارالحکومتوں، بندرگاہوں اور توانائی کے مراکز کو خطرہ لاحق ہوگا، توں توں مشترکہ دفاعی اقدامات کی ضرورت بڑھے گی۔ اس کے نتیجے میں سفارتی راستے محدود ہو جائیں گے اور وسیع تر تصادم کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے اس کے پس منظر کو بھی نظر میں رکھنا ضروری ہے۔ خلیجی ریاستوں کے دفاعی انتظامات اچانک وجود میں نہیں آئے بلکہ یہ برسوں سے جاری علاقائی عدم استحکام، میزائل خطرات اور پراکسی سرگرمیوں کے ردعمل میں تشکیل پائے۔ جب ریاستیں مسلسل غیر یقینی صورتحال اور غیر روایتی خطرات کا سامنا کرتی ہیں تو وہ اپنی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے شراکت دار تلاش کرتی ہیں۔ یہ کوئی جارحانہ اقدام نہیں بلکہ ایک فطری اور دفاعی ردعمل ہے۔ اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے ذمہ داری خلیجی ممالک پر ڈالنا درست نہیں۔
اقتصادی پہلو بھی اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔ خلیج صرف ایک علاقائی مرکز نہیں بلکہ عالمی توانائی اور تجارت کا اہم ستون ہے۔ یہاں کی تنصیبات یا سمندری راستوں میں کسی بھی بڑی رکاوٹ کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ اگر خلیج کو جنگ کا میدان بنا دیا گیا تو اس سے عالمی معیشت میں عدم استحکام پیدا ہوگا، جس کے نتائج سب کے لیے نقصان دہ ہوں گے۔
اس تمام پس منظر میں سعودی عرب کا مؤقف نہایت متوازن اور حقیقت پسندانہ نظر آتا ہے۔ مملکت نے پراکسی جنگ، میزائل دباؤ اور شہری تنصیبات پر حملوں کو مسلسل مسترد کیا ہے۔ اس نے خودمختاری کے احترام، بحری راستوں کے تحفظ اور معاشی استحکام کے فروغ پر زور دیا ہے۔ یہ صرف قومی مفاد نہیں بلکہ ایک وسیع تر علاقائی ذمہ داری کا اظہار ہے۔
آخرکار ایران کے سامنے راستہ واضح ہے۔ وہ یا تو کشیدگی میں اضافہ کر کے اپنی تنہائی کو بڑھا سکتا ہے، یا پھر اپنے رویے میں توازن لا کر تعمیری مکالمے کی طرف آ سکتا ہے۔ خلیجی ریاستوں کو دباؤ کے میدان کے طور پر استعمال کرنا کسی بھی طرح اس کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہوگا بلکہ اس کے نتائج طویل المدتی اور پیچیدہ ہوں گے۔
ایسے حالات میں وضاحت اور سنجیدگی انتہائی اہم ہیں۔ خلیجی ممالک اس بحران کے ذمہ دار نہیں اور نہ ہی انہیں اس کا بوجھ اٹھانے پر مجبور کیا جانا چاہیے۔ آگے بڑھنے کا راستہ جنگ کو پھیلانے میں نہیں بلکہ اسے محدود رکھنے، تحمل اور سفارتی کوششوں میں ہے۔ سعودی عرب نے ابتدا سے ہی یہی راستہ اختیار کیا ہے—ایک ایسا راستہ جو خطے کو بڑے تصادم سے بچانے کی سب سے مؤثر ضمانت ہے۔
مصنفہ کے بارے میں:
ڈاکٹر سمیرہ عزیز سعودی عرب کی سینئر صحافی، کاروباری شخصیت، مصنفہ، شاعرہ اور بین الثقافتی تجزیہ کار ہیں، اور جدہ میں مقیم ہیں۔ آپ ابلاغیات میں پی ایچ ڈی کی حامل ہیں اور مملکت میں خواتین صحافت کی اولین شخصیات میں سے ہیں۔ آپ وژن 2030 کی مضبوط حامی ہیں۔
رابطہConsultant.sameera.aziz@gmail.com :
