سعودی عرب نے ایک اور عظیم انسانی خدمت کی مثال قائم کرتے ہوئے شامی جڑی ہوئی بچیوں ’سیلین‘ اور ’ایلین‘ کو ایک پیچیدہ اور طویل آپریشن کے بعد کامیابی سے علیحدہ کر دیا ہے۔
یہ نایاب آپریشن شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی خصوصی ہدایت پر انجام پایا۔ اس موقع پر وزارت نیشنل گارڈز کے ماتحت کنگ عبداللہ اسپیشلسٹ ہسپتال میں قائم سعودی پروگرام برائے سیامی بچوں کی سرجری کے سپروائزر ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ کی سربراہی میں ایک ماہر اور تجربہ کار طبی ٹیم نے حصہ لیا۔
یہ دونوں بچیاں 29 دسمبر 2024 کو وزارت خارجہ اور وزارت دفاع کے تعاون سے لبنان کے ایک شامی پناہ گزین کیمپ سے سعودی عرب منتقل کی گئی تھیں، جہاں ان کا تفصیلی طبی معائنہ اور مختلف ٹیسٹ کیے گئے۔ ماہرین نے بچیوں کے جسمانی ڈھانچے اور طبی حالت کا بغور جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا کہ علیحدگی کا آپریشن کامیاب ہو سکتا ہے۔ دونوں بچیاں سینے اور پیٹ سے جڑی ہوئی تھیں، ان کی عمر ایک سال اور پانچ ماہ اور وزن مشترکہ طور پر 14 کلو گرام تھا۔
آپریشن آٹھ گھنٹے تک جاری رہا اور اسے چھ مراحل میں مکمل کیا گیا۔ اس پیچیدہ سرجری میں 24 کنسلٹنٹس، ماہر سرجنز اور دیگر طبی عملے نے حصہ لیا۔ سعودی عرب میں شامی جڑے ہوئے بچوں کی علیحدگی کا یہ چوتھا کامیاب آپریشن ہے۔
سعودی عرب نے سیامی بچوں کی علیحدگی کے لیے خصوصی پروگرام کا آغاز 1990 میں کیا تھا۔ گزشتہ 33 برسوں کے دوران مختلف ممالک کے 150 سے زائد کیسز اس پروگرام کے تحت لائے گئے، جن میں سے متعدد بچوں کو کامیابی کے ساتھ علیحدہ کیا گیا۔ اس کارنامے کے بعد سعودی عرب دنیا میں سیامی بچوں کی سب سے زیادہ کامیاب سرجریاں کرنے والا ملک بن چکا ہے۔
سعودی عرب کی ان کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، اور مختلف ممالک اور بین الاقوامی تنظیمیں مملکت کے ان انسانیت دوست اقدامات کو بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔
