امریکہ کی طرف سے2018 کے بعدبڑی پابندیاں عائد کی جارہی ہیں ایران پر عائد کی جانے والی نئی پابندیاں دنیا بھر میں ایک بڑی تبدیلی کا عندیہ دیتی ہیں۔ ان پابندیوں میں ایران کے بحری نیٹ ورک کے اہم افراد اور ادارے شامل ہیں، جنہیں محمد حسین شمخانی کے تجارتی بیڑے سے جوڑا گیا ہے۔ یہ پابندیاں صرف ایران تک محدود نہیں رہیں، بلکہ روسی تیل اور ڈرونز کی نقل و حمل کے معاملات کو بھی اپنے دائرہ کار میں شامل کر لیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے واضح کیا کہ ان پابندیوں کا مقصد ایران اور روس کے درمیان تیل اور دیگر اشیاء کی تجارت کو روکنا ہے، جو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر اثر انداز نہیں ہوں گی۔ تاہم، امریکہ نے اس اقدام کو "ایران کے عدم استحکام پھیلانے والی سرگرمیوں” کی مالی معاونت کے خاتمے کے طور پر پیش کیا ہے۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ محمد حسین شمخانی نے اپنے تجارتی بیڑے کے ذریعے ایران اور روس کی مدد سے کئی ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ کی ہے، جس کے نتیجے میں تیل اور دیگر اشیاء کی غیر قانونی تجارت کی گئی۔ اس نیٹ ورک کے ذریعے چین اور دیگر ممالک میں ایرانی تیل کی برآمدات کی گئیں، جس کے بدلے میں روس کو ایرانی ڈرونز اور میزائل فراہم کیے گئے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری تنصیبات پر شدید کشیدگی پائی جا رہی ہےاور ٹرمپ نے دوبارہ خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے اپنی جوہری تنصیبات کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی تو امریکہ اس پر فوری کارروائی کرے گا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ ان پابندیوں کا مقصد ایرانی حکومت کی مالی معاونت کو روکنا ہے تاکہ وہ اپنی عدم استحکام پھیلانے والی سرگرمیوں کو مزید جاری نہ رکھ سکے۔ اس کے علاوہ، امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف عائد کی گئی یہ پابندیاں ایران اور روس دونوں پر اثر ڈالیں گی، تاہم ان کا اصل ہدف تہران ہی ہے۔
یورپی یونین نے بھی اس سلسلے میں اپنے فیصلے میں اضافہ کرتے ہوئے علی شمخانی کے بیٹے پر پابندیاں عائد کی تھیں، جن کی وجہ ایران کی روس کے ساتھ تیل کی تجارت تھی۔
یہ پابندیاں ایران پر امریکی دباؤ کی ایک اور شکل ہیں، اور عالمی سطح پر ایران کے جوہری پروگرام اور غیر قانونی تجارتی نیٹ ورک کو محدود کرنے کے لیے ٹرمپ کی انتظامیہ کی پالیسی کا حصہ ہیں۔ ان پابندیوں کے اثرات ایران اور روس کی تجارتی سرگرمیوں پر نمایاں طور پر پڑیں گے، تاہم اس کا اثر عالمی تیل کی قیمتوں پر محدود رہنے کی توقع ہے۔
