سعودی عرب کے ہونہار طلبا نے کوالالمپور، ملائیشیا میں ہونے والے انٹرنیشنل نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ 2025 کے دوسرے مرحلے میں شاندار شرکت کی۔ 30 جولائی سے 6 اگست تک جاری رہنے والے اس بین الاقوامی سائنسی مقابلے میں 13 ممالک کے 52 ذہین طلبا نے حصہ لیا، جن میں سعودی ٹیم نے پانچ پانچ گھنٹے پر مشتمل تھیوری اور پریکٹیکل امتحانات دیے۔
پریکٹیکل سمیولیشن میں طلبا کی تجزیاتی اور تخلیقی صلاحیتوں کو جانچا گیا، جس میں سعودی ٹیم نے بھرپور اعتماد اور مہارت کے ساتھ شرکت کی۔ اس ٹیم میں الاحسا سے حسن علی العواض، جدہ سے عزام خالد العمری، مدینہ سے البرا سعید عواجی اور جبیل سے ابراہیم عبدالعزیز العثمان شامل تھے۔
ان طلبا کا انتخاب کنگ عبدالعزیز اینڈ ہز کمپینیئنز فاؤنڈیشن فار گفٹڈنیس اینڈ کریٹیویٹی، وزارتِ تعلیم، کنگ عبدالعزیز سٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور کنگ عبدالعزیز سٹی برائے ایٹمی و قابل تجدید توانائی کے اشتراک سے سخت تربیتی مراحل کے بعد کیا گیا۔
یہ سعودی عرب کی اس مقابلے میں دوسری شرکت تھی، جس میں اس سے قبل 2024 میں ایک سلور اور تین برونز میڈلز حاصل کیے گئے تھے۔
انٹرنیشنل نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ، جو کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے تحت قائم کیا گیا ہے، نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے پرامن اور محفوظ استعمال کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کو سائنس میں جدت، تحقیق اور ترقی کے میدان میں مہارت دلانے کا عالمی پلیٹ فارم ہے۔
سعودی طلبا کی یہ شرکت نہ صرف ملک کی سائنسی ترقی کا عکاس ہے بلکہ عالمی سطح پر سعودی نوجوانوں کی علمی صلاحیتوں کا اعتراف بھی ہے۔ ٹیم اس وقت نتائج کی منتظر ہے، تاہم ان کی شرکت ہی ایک بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے، جو مستقبل میں سعودی عرب کو نیوکلیئر سائنس کے شعبے میں نمایاں مقام دلانے میں مددگار ثابت ہو گی۔
