ریاض میں ایک اہم ملاقات کے دوران سعودی عرب کے وزیر برائے اسلامی امور، شیخ ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ، نے مملکت میں تعینات سری لنکا کے سفیر عمر لبی اجواد اور ان کے ہمراہ وفد کا گرم جوشی سے استقبال کیا۔
اس ملاقات میں دوطرفہ باہمی تعلقات کے فروغ، اسلامی امور سے جڑے شعبہ جات میں تعاون، اور عالمی سطح پر رواداری و اعتدال کی کوششوں پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
شیخ عبداللطیف آل الشیخ اور سری لنکن وفد کے درمیان ہونے والی اس گفتگو کا محور نہ صرف مذہبی ہم آہنگی تھا بلکہ ان سرگرمیوں کا اعتراف بھی کیا گیا جو سعودی وزارتِ اسلامی امور کی جانب سے عالمی سطح پر اسلام کے معتدل اور پرامن پیغام کو پھیلانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
ملاقات میں سری لنکن سفیر نے سعودی عرب کی طرف سے دنیا بھر میں اسلام کے حقیقی چہرے کو اجاگر کرنے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مملکت نے جس انداز میں اعتدال، رواداری، اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیا ہے، وہ عالمی برادری کے لیے قابلِ تقلید مثال ہے۔
عمر لبی اجواد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی عرب کے عالمی کردار کی بھرپور تحسین کی اور کہا کہ مملکت نے ہر اُس موقع پر اسلام کے اصل اصولوں یعنی اعتدال، انصاف، اور پرامن بقائے باہمی کو اُجاگر کیا ہے جب دنیا شدت پسندی اور غلط فہمیوں کا شکار رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے بین الاقوامی سطح پر اسلامی اتحاد اور بھائی چارے کا پرچم بلند رکھا ہے اور سری لنکا جیسے ممالک کو جس انداز میں تعاون فراہم کیا جا رہا ہے، وہ انتہائی قابلِ تعریف ہے۔
انہوں نے خاص طور پر قرآنی تعلیمات کے فروغ، مساجد کے ائمہ اور مبلغین کی تربیت، اور مذہبی آگاہی پروگراموں کی ترتیب و تنفیذ میں سعودی وزارتِ اسلامی امور کے مثبت کردار کو سراہا۔
سفیر کا کہنا تھا کہ قرآن پاک کی روشنی میں نوجوان نسل کی تربیت، قرآنی مقابلوں کا انعقاد، اور مذہبی رہنماؤں کی معیاری تربیت سعودی عرب کے وژن اور دوراندیشی کی علامت ہے۔
سری لنکن سفیر نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ سعودی عرب نے جن اقدار کو اپنایا ہے، وہ صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے انسانوں کے لیے امن و ہم آہنگی کی ضمانت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اعتدال اور رواداری کے جس مشن کو سعودی عرب نے اپنایا ہے، وہ دراصل اسلام کے اصل پیغام کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ان کوششوں کے گواہ ہیں جن کے ذریعے سعودی عرب نے مذہب کو نفرت یا تفریق کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانیت کے لیے پُل بنانے کی راہ دکھائی ہے۔
عمر لبی اجواد نے کہا کہ سعودی وزارتِ اسلامی امور نے جن تعلیمی اور مذہبی اقدامات کو فروغ دیا ہے، وہ صرف مملکت تک محدود نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر ان کا اثر نمایاں ہے۔ ان اقدامات نے مختلف ثقافتوں اور اقوام کے درمیان مکالمے کو فروغ دیا ہے اور سری لنکا جیسے ملک میں ان کی گونج واضح طور پر سنائی دیتی ہے۔
سفیر نے سعودی قیادت کے وژن اور وزارتِ اسلامی امور کی متحرک سرگرمیوں پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان مذہبی، تعلیمی، اور سماجی میدانوں میں تعاون مزید گہرا ہوگا۔
