سعودی عرب میں ای اسپورٹس اور گیمنگ کے شعبے میں دلچسپی غیرمعمولی طور پر بڑھ رہی ہے، اور مملکت اس صنعت کو مستقبل کی معیشت کا اہم ستون بنانے کے لیے بڑے اقدامات کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں ریاض میں منعقد ہونے والی "ورلڈ نیو اسپورٹس کانفرنس 2025” ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جو نہ صرف عالمی سطح پر گیمنگ کے منظرنامے کو نیا رخ دے رہی ہے بلکہ مملکت کے وژن 2030 کے اہداف سے بھی ہم آہنگ ہے۔
ای اسپورٹس کے چیف ایگزیکٹو فیصل بن حمران کے مطابق، یہ کانفرنس محض ایک تقریب نہیں بلکہ ایک عالمی پلیٹ فارم ہے جہاں صنعت کے رہنما، سرمایہ کار اور ٹیکنالوجی کے ماہرین اکٹھے ہو کر گیمنگ اور ای اسپورٹس کے نئے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ایونٹ کے ذریعے تزویراتی شراکت داری قائم کی جا رہی ہیں، بڑے پیمانے پر اقدامات کیے جا رہے ہیں اور مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
کانفرنس کا بنیادی موضوع "اگلا کھیل: گیمنگ، ای اسپورٹس اور کھیلوں کا مستقبل تعمیر کرنا” رکھا گیا ہے۔ اس میں خاص طور پر جدید اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر روشنی ڈالی جا رہی ہے، جن میں لائیو اسٹریمنگ، اسمارٹ اینالیٹکس، مصنوعی ذہانت (AI) اور آگمینٹڈ ریئلٹی (AR) شامل ہیں۔ فیصل بن حمران کے مطابق، یہ تمام شعبے مستقبل میں ای اسپورٹس کے لیے نئی راہیں کھولیں گے اور مقامی و عالمی سرمایہ کاروں کو مشترکہ منصوبوں کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کریں گے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف گیمنگ تک محدود رہنے کے بجائے تفریح اور میڈیا انڈسٹری کو بھی اس میں شامل کیا جا رہا ہے تاکہ مواد تخلیق کرنے کے نئے طریقے سامنے آئیں اور ناظرین کے تجربے کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ ساتھ ہی تعلیمی پروگرام اور نئی نسل کے تخلیقی ہنر کو پروان چڑھانے پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
کانفرنس کا ایک اور اہم پہلو روایتی کھیلوں اور ای اسپورٹس کو قریب لانا ہے۔ نشریات، اسپانسر شپ اور تماشائیوں کی دلچسپی کے میدان میں دونوں شعبوں کو مربوط کرنے پر بات ہو رہی ہے تاکہ کھیلوں کا مجموعی منظرنامہ مزید وسیع اور متنوع ہو سکے۔
ریاض کے فور سیزنز ہوٹل میں جاری اس تین روزہ تقریب میں دنیا بھر سے 1500 سے زائد ماہرین اور رہنما شریک ہو رہے ہیں، جن میں 500 سے زیادہ سی ای اوز اور چیئرمینز بھی شامل ہیں۔ یہ افراد دنیا کی 25 بڑی گیمنگ اور ڈیولپمنٹ کمپنیوں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، 80 سے زیادہ بین الاقوامی مقررین اور 50 ای اسپورٹس کلبز بھی اس ایونٹ کا حصہ ہیں۔
یہ کانفرنس نہ صرف سرمایہ کاروں کے لیے مواقع فراہم کر رہی ہے بلکہ ایک عالمی برادری تشکیل دے رہی ہے جہاں تخلیق کار، گیم ڈویلپرز، کھلاڑی اور ٹیکنالوجی کے ماہرین ایک دوسرے کے ساتھ خیالات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد نئی اختراعات کو فروغ دینا اور سعودی عرب و خطے میں جدید رجحانات کو متعارف کرانا ہے۔
اس ایونٹ کے دوران کئی اہم اجلاس اور مکالمے ہوں گے۔ سب سے نمایاں مکالمے کا موضوع ہے:
"سعودی عرب میں گیمنگ اور ای اسپورٹس کا نیا دور: مملکت کیسے اس صنعت کا مستقبل دوبارہ تشکیل دے رہی ہے”۔
اس سیشن میں شرکت کرنے والوں میں اہم شخصیات شامل ہیں، جیسے وزیر کھیل شہزادہ عبدالعزیز الفیصل، ای اسپورٹس فیڈریشن کے چیئرمین شہزادہ فیصل بن بندر بن سلطان، وزیر سرمایہ کاری انجینئر خالد الفالح، وزیر مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئر عبداللہ السواحہ اور وزیر سیاحت احمد الخطيب۔ ان رہنماؤں کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ حکومت کس حد تک اس شعبے کو ترجیح دے رہی ہے۔
یہ کانفرنس صرف موجودہ ترقی پر گفتگو تک محدود نہیں بلکہ یہ مستقبل کے لیے روڈ میپ تیار کر رہی ہے۔ اس میں ایسے سوالات پر غور کیا جا رہا ہے کہ ای اسپورٹس کس طرح عالمی کھیلوں کے منظرنامے کو بدل سکتا ہے اور تخلیقی معیشت کو کس طرح مضبوط کر سکتا ہے۔ ساتھ ہی، سرمایہ کاری کے نئے مواقع اور عالمی تعاون کے طریقے بھی زیر بحث ہیں۔
