سعودی عرب نے چین کے خصوصی انتظامی ریجن ہانگ کانگ کی حکومت کے ساتھ بیلٹ اینڈ روڈ آفس کے تحت ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا ایک اہم قدم ہے۔ عرب نیوز کے مطابق، اس مفاہمت کا مقصد ہانگ کانگ کے پروفیشنل افراد کو سعودی مارکیٹ میں اپنی خدمات فراہم کرنے کی سہولت کو بہتر بنانا ہے، اس کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر اور تعمیرات کے شعبوں میں معلومات کے تبادلے کو فروغ دینا ہے۔
یہ سٹریٹیجک مفاہمت سعودی عرب اور ہانگ کانگ کے درمیان معاشی تعلقات میں ایک نیا موڑ لائے گی اور سعودی عرب کے ویژن 2030 کے تحت اقتصادی ترقی کی راہوں کو مزید وسیع کرے گی۔ سعودی عرب کی وزارتِ سرمایہ کاری کے وزیر خالد الفالح اور ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹیو جون لی نے اس معاہدے کی اہمیت پر زور دیا اور اس کی باہمی فائدہ مند نوعیت کو سراہا۔
اس مفاہمت کی یادداشت دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط کو مزید مستحکم کرنے اور سعودی عرب کے ویژن 2030 کے اہداف کے حصول کے لیے اہم ثابت ہوگی۔ سعودی عرب کی وزارتِ سرمایہ کاری نے اس معاہدے کو وژن 2030 کی اقتصادی پالیسی کے مطابق قرار دیا، جس میں ملک کے بنیادی شعبوں میں بہتری لانے کے لیے عالمی سطح پر شراکت داریوں کو فروغ دینا ہے۔ سعودی عرب اور ہانگ کانگ کے درمیان اقتصادی تعلقات کو نئی جہت دینے والی اس مفاہمت کے تحت سعودی مارکیٹ میں ہانگ کانگ کے ماہرین کی خدمات کو دعوت دی جائے گی، جس سے دونوں ممالک کے لیے اقتصادی ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے۔
مفاہمت کی یادداشت کے مطابق، سعودی عرب اور ہانگ کانگ کے درمیان انفراسٹرکچر اور تعمیرات کے شعبے میں معلومات کے تبادلے کو بڑھانے پر زور دیا جائے گا۔ سعودی عرب، جو اس وقت بڑی پیمانے پر اپنی تعمیراتی صنعت میں ترقی کر رہا ہے، ہانگ کانگ سے ماہرین اور پروفیشنل افراد کی خدمات حاصل کرکے اپنے منصوبوں کی کارکردگی میں اضافہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ ہانگ کانگ کی حکومت کے مطابق، یہ معاہدہ سعودی عرب کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو گا، کیونکہ سعودی مارکیٹ میں داخلے کی سہولت کے ذریعے ہانگ کانگ کے کاروباری افراد کو بھی نئے مواقع ملیں گے۔
اس معاہدے پر دستخط کے موقع پر سعودی وزیرِ سرمایہ کاری خالد الفالح اور ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹیو جون لی بھی موجود تھے۔ اس موقع پر خالد الفالح نے کہا کہ سعودی عرب چین کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے، اور اس مفاہمت کی یادداشت اس راستے میں ایک اہم قدم ہے۔ سعودی عرب اور چین کے درمیان دو طرفہ تجارت 100 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ چکی ہے، اور چین سعودی عرب کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔
اس مفاہمت کی یادداشت کے ذریعے سعودی عرب اور ہانگ کانگ کے درمیان تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی، اور دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں ایک نیا باب شروع ہوگا۔ سعودی عرب کی وزارتِ سرمایہ کاری میں خدمات کے شعبے کے اسسٹنٹ نائب فہد الہاشم اور ہانگ کانگ کے کمشنر برائے بیلٹ اینڈ روڈ نکولس ہو لِک چِی نے معاہدے پر دستخط کیے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں مزید مضبوطی کی توقع کی جا رہی ہے۔
اس ہفتے، سعودی وزیرِ سرمایہ کاری خالد الفالح نے چین کا سرکاری دورہ بھی کیا تھا، جس دوران دونوں ممالک کے درمیان مختلف اقتصادی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس دورے کے دوران سعودی عرب نے اپنے تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات پر بات کی۔ سعودی عرب اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات کی مزید تقویت کے لیے یہ مفاہمت ایک اہم پیشرفت ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان مزید کاروباری مواقع پیدا کرے گی۔
