غزہ: دنیا کے 70 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے 250 سے زائد ذرائع ابلاغ نے غزہ کی پٹی میں صحافیوں کے قتل کے خلاف بھرپور احتجاج کیا ہے۔ اس احتجاج میں صحافتی اداروں نے اپنے پہلے صفحات اور ویب سائٹس سیاہ کر دی ہیں، جب کہ کئی ٹی وی چینلز نے نشریات بھی روک دی ہیں۔ یہ احتجاج عالمی صحافتی تنظیم "رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز” کی جانب سے منظم کیا گیا، جس کا مقصد غزہ میں صحافیوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔
رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اسرائیلی فوج نے گزشتہ دو سالوں میں غزہ کی پٹی میں 220 صحافیوں کو ہلاک کیا ہے۔ تنظیم کے ڈائریکٹر تیبو بروتن نے ایک بیان میں کہا، جس رفتار سے اسرائیلی فوج صحافیوں کو ہلاک کر رہی ہے، بہت جلد وہاں کوئی بھی نہیں بچے گا جو ہمیں بتا سکے کہ غزہ میں کیا ہو رہا ہے۔ یہ صرف غزہ کے خلاف جنگ نہیں ہے، یہ صحافت کے خلاف جنگ ہے۔
تنظیم نے مزید کہا کہ غزہ میں صحافیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے، انہیں ہلاک کیا جا رہا ہے اور ان کی کردار کشی کی جا رہی ہے۔بروتن نے سوال اٹھایا کہ اگر صحافی نہ ہوں تو کون ہمیں قحط کی صورتحال کے بارے میں بتائے گا؟ کون جنگی جرائم کو بے نقاب کرے گا؟ اور نسل کشی کی دستاویز کون تیار کرے گا؟
اسرائیلی فوج مسلسل دعویٰ کرتی ہے کہ اس کے حملے صرف فلسطینی تنظیم حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو نشانہ بناتے ہیں، اور وہ عام شہریوں کو نقصان پہنچانے سے گریز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم،اس دعوے کے باوجود غزہ میں صحافیوں کی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ 25 اگست 2025 کو فلسطینی فوٹوگرافر حسام المصری کی لاش خان یونس کے ناصر ہسپتال سے برآمد ہوئی، جو اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے صحافیوں میں شامل تھے۔
تیبو بروتن نے فلسطینی صحافیوں کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ صحافیوں کو محفوظ رہنے کا حق حاصل ہو۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ اگر صحافی غزہ کی پٹی سے نکلنا چاہیں تو دیگر ممالک کو انہیں پناہ دینی چاہیے، تاکہ وہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالے بغیر کام کرسکیں
غزہ: دنیا کے 70 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے 250 سے زائد ذرائع ابلاغ نے غزہ کی پٹی میں صحافیوں کے قتل کے خلاف بھرپور احتجاج کیا ہے۔ اس احتجاج میں صحافتی اداروں نے اپنے پہلے صفحات اور ویب سائٹس سیاہ کر دی ہیں، جب کہ کئی ٹی وی چینلز نے نشریات بھی روک دی ہیں۔ یہ احتجاج عالمی صحافتی تنظیم "رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز” کی جانب سے منظم کیا گیا، جس کا مقصد غزہ میں صحافیوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔
رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اسرائیلی فوج نے گزشتہ دو سالوں میں غزہ کی پٹی میں 220 صحافیوں کو ہلاک کیا ہے۔ تنظیم کے ڈائریکٹر تیبو بروتن نے ایک بیان میں کہا، جس رفتار سے اسرائیلی فوج صحافیوں کو ہلاک کر رہی ہے، بہت جلد وہاں کوئی بھی نہیں بچے گا جو ہمیں بتا سکے کہ غزہ میں کیا ہو رہا ہے۔ یہ صرف غزہ کے خلاف جنگ نہیں ہے، یہ صحافت کے خلاف جنگ ہے۔
تنظیم نے مزید کہا کہ غزہ میں صحافیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے، انہیں ہلاک کیا جا رہا ہے اور ان کی کردار کشی کی جا رہی ہے۔ اگر صحافی نہ ہوں تو کون ہمیں قحط کی صورتحال کے بارے میں بتائے گا؟ کون جنگی جرائم کو بے نقاب کرے گا؟ اور نسل کشی کی دستاویز کون تیار کرے گا؟ بروتن نے سوال اٹھایا۔
اسرائیلی فوج مسلسل دعویٰ کرتی ہے کہ اس کے حملے صرف فلسطینی تنظیم حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو نشانہ بناتے ہیں، اور وہ عام شہریوں کو نقصان پہنچانے سے گریز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم، اس دعوے کے باوجود غزہ میں صحافیوں کی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ 25 اگست 2025 کو فلسطینی فوٹوگرافر حسام المصری کی لاش خان یونس کے ناصر ہسپتال سے برآمد ہوئی، جو اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے صحافیوں میں شامل تھے۔
تیبو بروتن نے فلسطینی صحافیوں کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ صحافیوں کو محفوظ رہنے کا حق حاصل ہو۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ اگر صحافی غزہ کی پٹی سے نکلنا چاہیں تو دیگر ممالک کو انہیں پناہ دینی چاہیے، تاکہ وہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالے بغیر کام کر سکیں
غزہ: دنیا کے 70 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے 250 سے زائد ذرائع ابلاغ نے غزہ کی پٹی میں صحافیوں کے قتل کے خلاف بھرپور احتجاج کیا ہے۔ اس احتجاج میں صحافتی اداروں نے اپنے پہلے صفحات اور ویب سائٹس سیاہ کر دی ہیں، جب کہ کئی ٹی وی چینلز نے نشریات بھی روک دی ہیں۔ یہ احتجاج عالمی صحافتی تنظیم "رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز” کی جانب سے منظم کیا گیا، جس کا مقصد غزہ میں صحافیوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔
رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اسرائیلی فوج نے گزشتہ دو سالوں میں غزہ کی پٹی میں 220 صحافیوں کو ہلاک کیا ہے۔ تنظیم کے ڈائریکٹر تیبو بروتن نے ایک بیان میں کہا، جس رفتار سے اسرائیلی فوج صحافیوں کو ہلاک کر رہی ہے، بہت جلد وہاں کوئی بھی نہیں بچے گا جو ہمیں بتا سکے کہ غزہ میں کیا ہو رہا ہے۔ یہ صرف غزہ کے خلاف جنگ نہیں ہے، یہ صحافت کے خلاف جنگ ہے۔
تنظیم نے مزید کہا کہ غزہ میں صحافیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے، انہیں ہلاک کیا جا رہا ہے اور ان کی کردار کشی کی جا رہی ہے۔ اگر صحافی نہ ہوں تو کون ہمیں قحط کی صورتحال کے بارے میں بتائے گا؟ کون جنگی جرائم کو بے نقاب کرے گا؟ اور نسل کشی کی دستاویز کون تیار کرے گا؟ بروتن نے سوال اٹھایا۔
اسرائیلی فوج مسلسل دعویٰ کرتی ہے کہ اس کے حملے صرف فلسطینی تنظیم حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو نشانہ بناتے ہیں، اور وہ عام شہریوں کو نقصان پہنچانے سے گریز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم، اس دعوے کے باوجود غزہ میں صحافیوں کی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ 25 اگست 2025 کو فلسطینی فوٹوگرافر حسام المصری کی لاش خان یونس کے ناصر ہسپتال سے برآمد ہوئی، جو اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے صحافیوں میں شامل تھے۔
تیبو بروتن نے فلسطینی صحافیوں کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ صحافیوں کو محفوظ رہنے کا حق حاصل ہو۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ اگر صحافی غزہ کی پٹی سے نکلنا چاہیں تو دیگر ممالک کو انہیں پناہ دینی چاہیے، تاکہ وہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالے بغیر کام کر سکیں
غزہ: دنیا کے 70 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے 250 سے زائد ذرائع ابلاغ نے غزہ کی پٹی میں صحافیوں کے قتل کے خلاف بھرپور احتجاج کیا ہے۔ اس احتجاج میں صحافتی اداروں نے اپنے پہلے صفحات اور ویب سائٹس سیاہ کر دی ہیں، جب کہ کئی ٹی وی چینلز نے نشریات بھی روک دی ہیں۔ یہ احتجاج عالمی صحافتی تنظیم "رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز” کی جانب سے منظم کیا گیا، جس کا مقصد غزہ میں صحافیوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔
رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اسرائیلی فوج نے گزشتہ دو سالوں میں غزہ کی پٹی میں 220 صحافیوں کو ہلاک کیا ہے۔ تنظیم کے ڈائریکٹر تیبو بروتن نے ایک بیان میں کہا، جس رفتار سے اسرائیلی فوج صحافیوں کو ہلاک کر رہی ہے، بہت جلد وہاں کوئی بھی نہیں بچے گا جو ہمیں بتا سکے کہ غزہ میں کیا ہو رہا ہے۔ یہ صرف غزہ کے خلاف جنگ نہیں ہے، یہ صحافت کے خلاف جنگ ہے۔
تنظیم نے مزید کہا کہ غزہ میں صحافیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے، انہیں ہلاک کیا جا رہا ہے اور ان کی کردار کشی کی جا رہی ہے۔ اگر صحافی نہ ہوں تو کون ہمیں قحط کی صورتحال کے بارے میں بتائے گا؟ کون جنگی جرائم کو بے نقاب کرے گا؟ اور نسل کشی کی دستاویز کون تیار کرے گا؟ بروتن نے سوال اٹھایا۔
اسرائیلی فوج مسلسل دعویٰ کرتی ہے کہ اس کے حملے صرف فلسطینی تنظیم حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو نشانہ بناتے ہیں، اور وہ عام شہریوں کو نقصان پہنچانے سے گریز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم، اس دعوے کے باوجود غزہ میں صحافیوں کی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ 25 اگست 2025 کو فلسطینی فوٹوگرافر حسام المصری کی لاش خان یونس کے ناصر ہسپتال سے برآمد ہوئی، جو اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے صحافیوں میں شامل تھے۔
تیبو بروتن نے فلسطینی صحافیوں کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ صحافیوں کو محفوظ رہنے کا حق حاصل ہو۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ اگر صحافی غزہ کی پٹی سے نکلنا چاہیں تو دیگر ممالک کو انہیں پناہ دینی چاہیے، تاکہ وہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالے بغیر کام کر سکیں
