ریاض ایک بار پھر جدت، صنعت اور وژن 2030 کے خواب کو حقیقت میں ڈھالنے کے لیے عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ سعودی دارالحکومت میں دوسری سعودی وڈ ایکسپو کا شاندار افتتاح ہوا، جس کا مقصد لکڑی اور لکڑی سے تیار کی جانے والی مصنوعات کے شعبے کو نئی بلندیوں تک پہنچانا ہے۔ یہ ایکسپو نہ صرف اس صنعت سے وابستہ ہزاروں افراد کے لیے مواقع کا دروازہ کھول رہا ہے بلکہ سعودی عرب کے اقتصادی تنوع اور جدیدیت کے سفر کا عکاس بھی ہے۔
افتتاحی تقریب میں سعودی وزارت صنعت و معدنی وسائل کے نائب وزیر برائے صنعتی ترقی عبدالعزیز الاحمدی نے شرکت کی۔ ایونٹ ریاض انٹرنیشنل کنونشن اینڈ ایگزیبشن سینٹر میں منعقد ہوا، جو آئندہ تین دن تک مختلف شعبوں کے ماہرین، سرمایہ کاروں، سپلائرز، معماروں، ڈیزائنرز اور کاروباری افراد کا مرکز بنا رہے گا۔
ایکسپو میں 10 ہزار سے زائد شرکا شرکت کر رہے ہیں، اور یہاں لکڑی کی پیداوار، پروسیسنگ، ری سائیکلنگ، اور جدید مشینری کے استعمال سمیت کئی اہم پہلو زیرِ بحث آئیں گے۔ سعودی عرب میں جاری تعمیراتی انقلاب کے پیش نظر، یہ ایکسپو اب ایک محض نمائش نہیں بلکہ پائیدار ترقی کا سنگ میل بن چکا ہے۔
ڈی ایم جی ایونٹس کے صدر میٹ ڈینٹن نے اس موقع پر کہا کہ سعودی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اور اس نمائش کے ذریعے ہم مقامی اور عالمی اسٹیک ہولڈرز کو ایک چھت تلے لا رہے ہیں تاکہ وہ شراکت داریوں کو فروغ دیں اور طویل المدتی ترقی کو ممکن بنائیں۔
ایونٹ کے سینئر نائب صدر محمد قاضی نے اس ایکسپو کو سعودی وژن 2030 کا ایک اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نمائش نہ صرف موجودہ ضروریات کو پورا کر رہی ہے بلکہ آنے والے برسوں میں لکڑی کے شعبے کی سمت بھی طے کرے گی۔
تعمیراتی منصوبوں، ہوٹل انڈسٹری، رہائشی و کمرشل منصوبوں اور اندرونی سجاوٹ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے تناظر میں، لکڑی کی صنعت اب صرف فن نہیں، ایک اسٹریٹجک انڈسٹری بن چکی ہے جو مملکت کے ترقیاتی ایجنڈے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
