یروشلم:اسرائیلی فوج نے جمعرات کو تصدیق کی ہے کہ یمن سے داغا گیا ایک میزائل اسرائیل کی سرحدوں سے باہر ایک کھلی جگہ پر گر کر تباہ ہوگیا، اور اس حملے کے دوران کسی بھی قسم کا سائرن بجانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ یہ حملہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے اندر تیسرا میزائل حملہ ہے، جو مشرق وسطیٰ کی ابھرتی ہوئی کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
حوثی باغیوں نے ان میزائل حملوں میں حالیہ تیزی کو یمن پر اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی فضائی کارروائیوں کا ردعمل قرار دیا ہے۔ یہ مسلسل حملے خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ اور عسکری محاذ پر نئے چیلنجز کی عکاسی کرتے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے زور دیا ہے کہ اس نے اپنی حدود کی مکمل حفاظت کے لیے موثر حفاظتی اقدامات کیے ہیں، اور وہ ہر قسم کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
تحلیل کاروں کا کہنا ہے کہ حوثی باغیوں کی طرف سے اسرائیل کو نشانہ بنانا صرف یمن اور اسرائیل کے مابین کشیدگی نہیں بڑھا رہا بلکہ یہ اقدام خطے کی دیگر طاقتوں کے مابین بھی عسکری توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔ ان حملوں کا مقصد نہ صرف عسکری جارحیت کا مظاہرہ ہے بلکہ ایک سیاسی پیغام بھی ہے جو خطے میں طاقت کے نئے تنازعات کی جانب اشارہ کرتا ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان میزائل حملوں سے جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن یہ واقعات سیکورٹی کے لیے شدید خطرہ ہیں اور ان کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ دوسری جانب حوثی باغیوں کا موقف ہے کہ یہ حملے ان کے حق دفاع کا حصہ ہیں اور وہ اسرائیلی فضائی حملوں کے مقابلے میں اپنی خودمختاری اور علاقائی مفادات کا دفاع جاری رکھیں گے۔
یہ تسلسل اس خطے میں جاری کشیدگی کی ایک نئی جہت کو سامنے لاتا ہے، جہاں علاقائی اور عالمی طاقتیں اپنے مفادات کی خاطر اپنی عسکری صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ بین الاقوامی برادری اس بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، اور امن و استحکام کے لیے موثر حکمت عملی کی تلاش میں مصروف ہے۔
