ریاض میں جاری بین الاقوامی کانفرنس ’جی ایس آر 25‘ کے دوران سعودی عرب میں انٹرنیٹ کے استعمال سے متعلق حیران کن اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ سعودی کمیونیکیشن، اسپیس اینڈ ٹیکنالوجی اتھارٹی (CST) کے اسٹریٹیجی و ڈیجیٹلائزیشن کے ڈپٹی گورنر یاسر مشبب نے انکشاف کیا کہ مملکت میں افراد عالمی اوسط سے تین گنا زیادہ شرح سے انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں۔ یہ رجحان سعودی عرب کے تیزی سے ڈیجیٹل دنیا کی طرف بڑھتے قدموں کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مملکت کی نصف سے زیادہ آبادی "جنریشن الفا” پر مشتمل ہے، یعنی وہ نوجوان نسل جو پیدائش سے ہی ڈیجیٹل دنیا سے جڑی ہوئی ہے۔ اس تیز رفتار ترقی کے تناظر میں نئے ریگولیٹری فریم ورک کی تشکیل ناگزیر ہو چکی ہے تاکہ نہ صرف ڈیجیٹل ترقی کو ممکن بنایا جا سکے بلکہ اس کے ساتھ جڑے خطرات کا بھی مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔
اس موقع پر شہزادی نوف بنت بندر بن عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کا سب سے بڑا چیلنج صرف جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا نہیں، بلکہ اس سے منسلک خطرات، جیسے پرائیویسی، سائبر سیکیورٹی اور ذہنی صحت، سے نمٹنے کی قانونی و تکنیکی صلاحیت پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ گھروں میں استعمال ہونے والی ڈیجیٹل ڈیوائسز کا اثر خاندانی نظام اور بچوں کی تربیت پر بھی پڑ رہا ہے، جس کے لیے فوری تحقیق اور عملی اقدامات درکار ہیں۔
عکاظ‘ کی رپورٹ کے مطابق سعودی ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ اسپیس کمیشن کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 48.6 فیصد سعودی شہری روزانہ 7 گھنٹے سے زیادہ وقت آن لائن گزارتے ہیں۔ سال 2024 کے ایک سروے کے مطابق، گھروں میں انٹرنیٹ کا استعمال 87.9 فیصد، چلتے پھرتے 79.3 فیصد جبکہ کام کے دوران 41.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جو مملکت کی ڈیجیٹل طرزِ زندگی کو واضح کرتا ہے۔
جی ایس آر 25‘ کانفرنس نہ صرف عالمی سطح پر ڈیجیٹل ترقی اور قوانین پر تبادلہ خیال کا ایک منفرد موقع ہے بلکہ سعودی عرب کی ٹیکنالوجی میں قائدانہ حیثیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ اس کانفرنس نے واضح کیا کہ مملکت نہ صرف صارفین کی سطح پر ڈیجیٹل انقلاب کا سامنا کر رہی ہے بلکہ پالیسی، تحقیق اور قانون سازی کے میدان میں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہے۔
