امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سعودی عرب کو MQ-9 ماڈل کے ڈرون طیارے فروخت کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ ڈرون طیارے اپنی جدید خصوصیات کی بدولت تلاش و بچاؤ کی کارروائیوں، زمینی اہداف پر حملوں اور طویل پروازوں کے لیے بہترین ہیں۔ ان ڈرونز کی خاص بات یہ ہے کہ یہ تقریباً 50 ہزار فٹ کی بلندی پر 27 گھنٹے سے زیادہ پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو انہیں انتہائی موثر اور لچکدار بنا دیتا ہے۔
سعودی عرب نے اس سال کے اوائل میں ان ڈرونز کی خریداری کی درخواست کی تھی، اور مئی میں صدر ٹرمپ کے ریاض کے دورے کے دوران سعودی عرب نے تقریباً 100 MQ-9 ڈرون خریدنے کا مطالبہ کیا تھا، جو ایک بڑی اسلحہ معاہدے کا حصہ بنے گا۔
جنرل ایٹومکس کی تیار کردہ MQ-9 ڈرونز کی کئی نمایاں خصوصیات ہیں، جن میں 11 میٹر لمبائی، 20.12 میٹر پروں کا پھیلاؤ اور بڑی ہتھیار برداری کی صلاحیت شامل ہے۔ یہ ڈرون 8 لیزر گائیڈڈ میزائل اور 16 AGM-114 ہیلفائر میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان ڈرونز کی جدید انفراریڈ سینسرز اور حساس آلات کی بدولت یہ 360 درجے پر نگرانی کر سکتے ہیں، جو انہیں جاسوسی اور فضائی حملوں کے لیے انتہائی کارگر بناتا ہے۔
MQ-9 ڈرون کو امریکی فضائیہ کا بنیادی حملہ آور ڈرون سمجھا جاتا ہے اور اس کے خاص ایروناٹیکل ڈیزائن نے اسے مختلف فضائی مشنوں کے لیے غیر معمولی لچک فراہم کی ہے۔ 2001 میں پہلی تجرباتی پرواز کے بعد، امریکی فضائیہ نے 2007 میں 300 سے زیادہ MQ-9 ڈرونز تیار کرنے کے لیے جنرل ایٹومکس کے ساتھ معاہدہ کیا۔ ہر ڈرون کی قیمت تقریباً 3 کروڑ ڈالر ہے، جو اسے دنیا کے سب سے مہنگے ڈرونز میں سے ایک بناتا ہے۔
