جبیل :سعودی عرب کے صنعتی اور تاریخی اہمیت کے حامل شہر جبیل میں ایک شاندار اور یادگار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ اور عالمی شہرت یافتہ اسپن بالر ثقلین مشتاق کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ یہ تقریب نہ صرف پاکستانی کمیونٹی بلکہ کرکٹ کے دیوانوں کے لیے بھی ایک یادگار لمحہ ثابت ہوئی۔
تقریب میں بڑی تعداد میں پاکستانی کمیونٹی کے افراد، کرکٹ سے وابستہ شخصیات اور سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی شائقین شریک ہوئے۔ شرکاء نے ثقلین مشتاق کو پاکستان کرکٹ کا اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ "دوسرا” گیند ایجاد کرنے والے اس عظیم بالر نے نہ صرف پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ دنیا بھر کے اسپن بالنگ کے انداز کو بھی ایک نئی پہچان دی۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ ثقلین مشتاق کا نام پاکستان کرکٹ کی سنہری تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ وہ واحد بالر ہیں جنہوں نے روایتی اسپن کو ایک انقلابی موڑ دیا اور کرکٹ کے کھیل میں نئی تاریخ رقم کی۔ ان کی کوچنگ کے دوران بھی پاکستان نے کئی یادگار فتوحات حاصل کیں، جن میں بھارت اور جنوبی افریقہ کے خلاف اہم کامیابیاں شامل ہیں۔
تقریب کے دوران ثقلین مشتاق کو خصوصی شیلڈ اور گلدستے پیش کیے گئے، جبکہ کمیونٹی رہنماؤں نے ان کے کیریئر اور خدمات پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر ثقلین مشتاق نے اپنے خطاب میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ ہمیشہ وطنِ عزیز کے نوجوانوں کے ساتھ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ کے نوجوان کھلاڑی بے پناہ ٹیلنٹ رکھتے ہیں، ضرورت صرف انہیں صحیح سمت دینے کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ "پاکستانی قوم کی محبت اور خلوص میری اصل طاقت ہے، میں جہاں بھی جاتا ہوں، لوگ پاکستان اور کرکٹ کے لیے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب سمیت دنیا بھر میں مقیم پاکستانی کمیونٹی ملک کا اصل سرمایہ ہے اور ان کے تعاون سے وطن کی شناخت مزید مضبوط ہو رہی ہے۔
تقریب میں نوجوان کرکٹرز کو بھی مدعو کیا گیا تھا، جنہوں نے ثقلین مشتاق سے ملاقات کی اور ان سے کرکٹ کے متعلق مشورے حاصل کیے۔ نوجوانوں نے کہا کہ وہ اپنے ہیرو سے مل کر بے حد خوش ہیں اور اس ملاقات کو اپنی زندگی کا یادگار لمحہ قرار دیا۔
جبیل میں ہونے والی یہ تقریب نہ صرف ایک لیجنڈ کرکٹر کو خراج تحسین پیش کرنے کا موقع تھی بلکہ اس نے پاکستانی کمیونٹی کو مزید قریب کر دیا۔ سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں نے اس تقریب کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوستانہ تعلقات کی ایک اور مثال قرار دیا۔
