دوحہ/تل ابیب: مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک نئے بحران میں داخل ہو گئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر فضائی حملہ کرتے ہوئے فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے مرکزی رہنما خلیل الحیہ کو نشانہ بنایا اور شہید کر دیا۔ یہ حملہ نہ صرف فلسطینی تحریک کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے بلکہ قطر کی خودمختاری پر بھی براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے دوحہ کے پوش علاقے کتارا میں دھماکوں کی جھڑیاں برسائیں۔ رات کے سناٹے کو توڑتے ہوئے دھماکوں کی آوازیں دور دور تک سنائی دیتی رہیں۔ اس وقت عمارت کے اندر حماس کے اعلیٰ سطحی رہنما ایک نہایت حساس اجلاس میں مصروف تھے، جہاں غزہ میں ممکنہ جنگ بندی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا تھا۔
اجلاس میں شریک رہنما خلیل الحیہ ،خالدمشعل، زاہر جبارین، محمد درویش، ابو مرزوق شامل تھے،عرب میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ اجلاس میں حماس کے پانچ اہم ترین رہنما شریک تھے،حملے میں خلیل الحیہ موقع پر شہید ہو گئے جبکہ دیگر رہنماؤں کی صحت اور سلامتی کے بارے میں مختلف اور غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والی خبر یہ ہے کہ ایک اسرائیلی عہدیدار نے تسلیم کیا کہ اس آپریشن سے قبل امریکا کو پیشگی اطلاع دی گئی تھی اور واشنگٹن نے اس حملے میں تعاون بھی فراہم کیا۔ یہ انکشاف اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکا برسوں سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کا دعویٰ کرتا آیا ہے۔ اس پیش رفت نے امریکا کے "غیر جانبدار ثالث” کے بیانیے کو بری طرح مجروح کیا ہے۔
قطر کی وزارتِ خارجہ نے فوری طور پر اسرائیل کے اس اقدام کو "قطر کی سالمیت اور خودمختاری پر براہِ راست وار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی ہے، اس حملے نے نہ صرف قطر کے شہریوں بلکہ یہاں مقیم غیر ملکیوں کی زندگیوں کو بھی شدیدخطرے میں ڈال دیا ہے۔
قطری حکومت نے ہنگامی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور عالمی برادری کو متنبہ کیا ہے کہ اس واقعے کے اثرات پورے خطے میں تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب غزہ میں جنگ بندی کے امکانات پر مذاکرات جاری تھے۔ ماہرین کے مطابق اسرائیل نے دوحہ میں کارروائی کر کے نہ صرف حماس کی قیادت کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے بلکہ قطر کو بھی براہِ راست پیغام دیا ہے کہ وہ فلسطینی مزاحمتی گروہوں کی میزبانی سے باز آجائے۔
یہ واقعہ مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو ہلا کر رکھ سکتا ہے۔ ایک جانب فلسطینی قیادت کو شدید نقصان پہنچا ہے تو دوسری طرف قطر اور اسرائیل کے تعلقات ایک خطرناک موڑ پر کھڑے ہیں۔ خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی، شام، لبنان اور یمن کی صورت حال کے پس منظر میں مزید بھڑک سکتی ہے۔
یہ حملہ اب عالمی طاقتوں کے لیے ایک کڑا امتحان بن گیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں پر دباؤ ہے کہ وہ اسرائیل کے اس اقدام پر واضح مؤقف اختیار کریں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا دنیا واقعی قطر کی خودمختاری کے تحفظ اور فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کی پاسداری کے لیے کوئی عملی قدم اٹھائے گی یا ایک بار پھر خاموشی اختیار کرے گی؟
