غزہ میں تقریباً دو سال سے قید اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے قائم فورم نے دوحہ پر اسرائیل کی جانب سے حالیہ فضائی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ فورم کا کہنا ہے کہ یہ حملہ نہ صرف غزہ میں قید اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کی کوششوں کو متاثر کرے گا بلکہ یہ جنگ بندی مذاکرات پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ قیدیوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ان حملوں کی وجہ سے ان کے پیاروں کی رہائی کے امکانات اور کوششیں مزید پیچیدہ اور غیر یقینی ہو گئی ہیں۔
منگل کے روز جاری کردہ ایک بیان میں فورم نے کہا کہ "ہمیں اس حملے پر گہری تشویش اور شدید بے چینی ہے۔ ہمارا خوف بڑھ رہا ہے کہ اس حملے کی قیمت غزہ میں قید ہمارے پیاروں کو ادا کرنا پڑے گی۔” فورم کے اراکین کا کہنا تھا کہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے جاری مذاکرات میں مزید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں اور یہ حملہ ان کے مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
اس فورم نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ حالیہ حملوں نے جنگ بندی مذاکرات پر منفی اثرات ڈالے ہیں، جن کی میزبانی قطر اور مصر نے کی تھی۔ ان مذاکرات کے دوران کئی محدود جنگ بندیاں ہوئی ہیں، جن میں سے کچھ کامیاب بھی ثابت ہوئیں۔ قیدیوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ "اب یہ لگ رہا ہے کہ ہمارے پیاروں کی رہائی کا وقت ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔”
خیال رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لئے مذاکرات قطر اور مصر کے ذریعے کئی مرتبہ جاری رہ چکے ہیں اور ان کی وجہ سے غزہ میں ایک بہتر امن کی فضا قائم ہونے کی امید تھی، لیکن دوحہ پر اسرائیلی حملے نے اس امید کو ایک دھچکا پہنچایا ہے۔
