پاکستان نے 9 ستمبر کو قطر پر اسرائیلی فضائی حملے کی شدید مذمت کی ہے، جس میں چھ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے دوحہ کا ایک روزہ دورہ کیا، جہاں انہوں نے قطری قیادت کے ساتھ ملاقات کی اور اس حملے کو قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
وزیرِ اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیلی جارحیت کو فوری طور پر روکا جائے اور امت مسلمہ کو اس کے خلاف متحد ہو کر ردعمل ظاہر کرنا ہوگا۔ اس دورے کے دوران قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے ساتھ بھی ایک ملاقات کی گئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت اور علاقائی امن کی ضرورت پر بات کی۔
پاکستان نے قطر کے ساتھ یکجہتی کرتےہوئےکہاہےکہ ہم ہمیشہ آپ کے ساتھ ہیں ،پاکستانی وزیرِ اعظم نے اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ہونے والے قیمتی انسانی نقصان پر گہری افسوس کا اظہار کیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان اس مشکل وقت میں قطر کے ساتھ کھڑا ہے اور دونوں ممالک کے تاریخی برادرانہ تعلقات ہمیشہ مضبوط رہیں گے۔
انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے قطر کے ساتھ یکجہتی کا پیغام دیا۔ وزیرِ اعظم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کی تجویز بھی پیش کی تاکہ اس حملے کے خلاف عالمی سطح پر آواز اٹھائی جا سکے۔
9 ستمبر کو اسرائیل نے قطر میں فضائی حملہ کیا جس میں حماس کے سینئر رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ تاہم، حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیہ اس حملے میں محفوظ رہے، لیکن ان کے بیٹے اور معاون سمیت چھ افراد شہید ہو گئے۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب حماس کے رہنما جنگ بندی کے حوالے سے امریکا کی پیش کردہ تازہ ترین تجویز پر بات چیت کر رہے تھے۔ حملے نے قطری ثالثی کے عمل کو شدید متاثر کیا ہے اور علاقائی امن کی کوششوں کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔
پاکستان اورقطرکا مشترکہ موقف اپنایا ہےکہ اسرائیلی جارحیت کےخلاف عالمی سطح پرمتحد ہونےکی ضرورت ہےپاکستان نے اسرائیلی حملے کے بعد عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس جارحیت کے خلاف متحد ہو کر سخت موقف اختیار کرے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کی اشتعال انگیز کارروائیاں علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور عالمی اداروں کو اس پر فوری ردعمل دکھانا چاہیے۔ پاکستان نے قطر کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی تجویز دی ہے۔
قطری حکام نے پاکستان کا شکریہ اداکرتے ہوئےکہا ہےکہ آپ کا ساتھ ہمارے لیے بہت اہم ہےامیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے وزیراعظم شہباز شریف کا اظہارِ یکجہتی پر شکریہ ادا کیا۔ دونوں رہنماؤں نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت، علاقائی امن و استحکام کے فروغ اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے عزم کا اعادہ کیا۔ پاکستان اور قطر کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات مزید مستحکم ہو گئے ہیں اور دونوں ممالک نے مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو جاری رکھنے کا عزم کیا ہے۔
