قطر اور اسرائیل کے درمیان بیانات کی جنگ شدت اختیار کر گئی۔ قطری وزارتِ خارجہ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے قطر میں حماس کے دفتر سے متعلق بیانات کو "غیر ذمہ دارانہ اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی” قرار دے دیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ نیتن یاہو کی دھمکیاں خطے میں کشیدگی کو مزید ہوا دے رہی ہیں اور انہیں اپنے "غیر قانونی اقدامات” کا حساب دینا ہوگا۔
قطر نے واضح کیا کہ اسرائیل کے بیانات نہ صرف قطر کی خودمختاری کے خلاف ہیں بلکہ یہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی بھی ہیں۔ ترجمان کے مطابق، نیتن یاہو کے حالیہ بیانات قطر کی اس مثبت کوشش کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں جو وہ غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے لیے کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ قطر کو حماس کی قیادت کو ملک سے نکال دینا چاہیے یا انہیں قانون کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔ انہوں نے اسرائیلی حملے کو پاکستان میں اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی آپریشن کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ "جس طرح امریکا نے 9/11 کے بعد دہشت گردوں کو ڈھونڈ کر ختم کرنے کا عہد کیا تھا، ہم نے بھی اسی اصول پر عمل کیا ہے۔”
نیتن یاہو نے قطر پر الزام لگایا کہ وہ حماس کے رہنماؤں کو پناہ دینے کے ساتھ ساتھ مالی امداد اور پرتعیش سہولیات بھی فراہم کر رہا ہے۔ ان کے مطابق، قطر میں نشانہ بنائے گئے وہی افراد تھے جنہوں نے "7 اکتوبر کے قتلِ عام کی منصوبہ بندی کی تھی۔”
دوسری جانب امریکا میں اسرائیلی سفیر یچیل لیٹر نے بھی سخت موقف اپنایا اور کہا کہ اگر اسرائیل قطر میں حماس رہنماؤں کو مکمل طور پر نشانہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا تو "اگلی بار ضرور کامیاب ہوگا۔” ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل جہاں بھی دہشت گردوں کو پائے گا انہیں ختم کرے گا، اور "جو ہمیں مارے گا، ہم اسے ضرور جواب دیں گے۔”
یہ تازہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب اسرائیل کے قطر میں فضائی حملے کے نتیجے میں حماس کے سینئر رہنماؤں اور ان کے قریبی افراد کی شہادت کے بعد خطے میں سفارتی بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔ یورپی یونین اور اقوام متحدہ پہلے ہی ان حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دے چکے ہیں، جبکہ قطر نے بھی اسرائیلی جارحیت پر عالمی برادری سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
