دوحہ/یروشلم:اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے خلیجی ریاست قطر پر کیے گئے حملے کو حماس کے سیاسی سربراہ کو نشانہ بنانے کی کوشش” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک یہ رہنما زندہ ہے، نہ جنگ ختم ہو سکتی ہے، نہ اسرائیلی قیدی واپس آ سکتے ہیں۔ تاہم دنیا بھر میں اس منطق کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور اسرائیل پر بین الاقوامی قانون، سفارتی اصولوں اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
نیتن یاہو نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ (X) میں لکھا کہ حماس کا یہ رہنما غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور اسی لیے اسے نشانہ بنانا ضروری ہو گیا تھا، چاہے اس کی قیمت لاکھوں فلسطینیوں کی مزید تکالیف اور قطر جیسے ثالثی کردار ادا کرنے والے ملک پر حملے کی صورت میں ہی کیوں نہ ادا کرنا پڑے۔
اسرائیل کی جانب سے رواں ہفتے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر ایک درجن سے زائد جنگی طیاروں کی مدد سے میزائل حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خلیل الحیہ کے جوان سال بیٹے، دفتر کے ڈائریکٹر، چند محافظین اور قطر کی داخلی سلامتی کے ایک اہلکار کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم اسرائیل اپنے اصل ہدف کو مکمل طور پر حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
قطر نے اس حملے پر شدید ردعمل دیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل نے نہ صرف مذاکرات کے مرکزی کرداروں کو نشانہ بنایا بلکہ قطر کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی بھی صریحاً خلاف ورزی کی ہے۔ قطر کی وزارتِ خارجہ نے اس اقدام کو جنگ بندی کی کوششوں کو جان بوجھ کر سبوتاژ کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
عالمی برادری نے بھی اسرائیل کے اس حملے پر حیرت اور مذمت کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے لیے پیش کی گئی نئی تجاویز پر فریقین کا ابتدائی ردعمل مثبت تھا۔ یہی وجہ تھی کہ حماس کی اعلیٰ قیادت دوحہ میں ایک مشاورتی اجلاس کے لیے اکٹھی ہوئی تھی۔ لیکن انہی رہنماؤں کو نشانہ بنانا ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتا ہے۔
حماس کے جاری کردہ بیان میں بھی واضح کیا گیا کہ دوحہ پر حملہ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ جنگ بندی کے عمل پر حملہ تھا۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد فریقین کے درمیان جاری بات چیت کو ختم کرنا اور غزہ میں جنگ کو طول دینا ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ حملہ اس حقیقت کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ اسرائیل خطے میں جاری جنگ کو روکنے کے بجائے اسے ایک نئی سطح پر لے جانا چاہتا ہے، چاہے اس کے لیے سفارتی تعلقات، ثالثی کردار ادا کرنے والے ممالک یا انسانی جانیں ہی کیوں نہ قربان کرنی پڑیں۔
