دوحہ میں ہونے والی عرب و اسلامی سربراہی کانفرنس کے اختتام پر ایک اہم اور جامع بیان جاری کیا گیا، جس میں خلیجی ممالک نے اسرائیل کی جانب سے قطر پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی۔ سربراہی کانفرنس میں خلیج میں مشترکہ دفاعی میکانزم کو فعال کرنے اور خلیجی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ، قطر میں اسرائیلی حملے کے بعد مشترکہ خلیجی دفاعی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کرلیا گیا ہے۔
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والی سربراہی کانفرنس میں اسرائیل کے خلاف سخت موقف اختیار کیا گیا۔ کانفرنس کے اختتام پر قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد الانصاری نے کہا کہ دوحہ سربراہی کانفرنس ایک واضح پیغام ہے کہ عرب اور اسلامی ممالک قطر پر ہونے والی اسرائیلی جارحیت کو مسترد کرتے ہیں اور ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ اس اجلاس میں قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزی کو عالمی سطح پر ناپسندیدہ قرار دیا گیا۔
قطر کے امیر، شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے اپنی افتتاحی تقریر میں اسرائیل کی جارحیت کو "غدارانہ حملہ” قرار دیا اور کہا کہ یہ بزدلانہ دہشت گردی کا فعل تھا جس میں ایک قطری شہری سمیت کئی افراد جاں بحق ہوئے۔ انہوں نے اس حملے کو اسرائیل کی طرف سے خطے میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کے طور پر پیش کیا اور اسرائیل کے مذاکراتی رویے پر تنقید کی۔
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور عرب لیگ کے رہنماؤں نے بھی اسرائیل کے خلاف اپنی شدید مذمت کا اظہار کیا۔ او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین طہ نے فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا۔ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے کہا کہ قطر پر اسرائیلی حملے نے تمام حدیں پار کر دی ہیں، اور اس کے نتیجے میں عرب اور اسلامی ممالک کے رہنماؤں نے اسرائیل کی جارحیت کے خلاف عالمی یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔
