وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے آج سعودی عرب کا دورہ شروع کیا، جو دراصل ان کے تین ملکی سفر کی پہلی منزل ہے۔ یہ دورہ اس لحاظ سے نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ اس کی دعوت براہِ راست سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے دی تھی اور اسے دونوں برادر ممالک کے درمیان قریبی تعلقات اور باہمی اعتماد کا ایک اور مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم کے طیارے نے جیسے ہی سعودی فضائی حدود میں قدم رکھا، مملکت کی فضائیہ کے ایف۔15 لڑاکا طیاروں نے ان کا استقبال کیا۔
یہ منظر سفارتی تعلقات کی گہرائی اور سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کی اعلیٰ قیادت کو دی جانے والی عزت و احترام کی ایک منفرد مثال تھا۔ ایسے اعزازات عام طور پر صرف ان ممالک کے سربراہان کو ملتے ہیں جن کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات انتہائی مضبوط اور برادرانہ نوعیت کے ہوں۔
اسلام آباد سے روانگی کے وقت وزیراعظم کے ہمراہ اعلیٰ سطحی حکومتی وفد بھی موجود تھا جس میں نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیرِ ماحولیات مصدق ملک اور معاونِ خصوصی طارق فاطمی شامل تھے۔ یہ امر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ روابط محض روایتی سفارت کاری تک محدود نہیں بلکہ انہیں وسیع تر معاشی، دفاعی اور تزویراتی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے کابینہ کے اہم ترین وزرا کو بھی اس دورے میں شریک کیا تاکہ مختلف شعبوں میں تعاون کو براہِ راست آگے بڑھایا جا سکے۔
ریاض پہنچنے پر وزیراعظم کا استقبال سعودی قیادت کی جانب سے بھرپور انداز میں کیا گیا۔ ابتدائی ملاقات میں ولی عہد محمد بن عبدالرحمن بن عبدالعزیز نے وزیراعظم سے خیرسگالی کلمات کا تبادلہ کیا اور جلد ہی شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ باقاعدہ نشست کا اہتمام کیا گیا۔ اس ملاقات میں توقع کی جا رہی ہے کہ دونوں رہنما دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر جامع بات چیت کریں گے۔
اکستان اور سعودی عرب کے مابین ہمیشہ سے تعلقات صرف حکومتوں کے درمیان نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی جذباتی وابستگی رہی ہے، کیونکہ لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں محنت مزدوری اور کاروباری سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور مملکت سعودی عرب لاکھوں پاکستانیوں کا دوسرا گھر کہلاتا ہے۔
یہ دورہ ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب پاکستان اپنی معاشی مشکلات کے تناظر میں نئے مواقع تلاش کر رہا ہے اور سعودی عرب سرمایہ کاری اور مالی تعاون کے حوالے سے ہمیشہ اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ توانائی، تجارت، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور مالی تعاون جیسے شعبے اس ملاقات کے مرکزی نکات میں شامل ہوں گے۔ اسی کے ساتھ ساتھ خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور عالمی سیاست کے تناظر میں دونوں ممالک کی قیادت علاقائی سلامتی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کرے گی۔ پاکستان سعودی عرب کو نہ صرف اپنا قریبی دوست سمجھتا ہے بلکہ اسے ایک تزویراتی شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے، اور سعودی عرب بھی پاکستان کی حمایت کو عالمی فورمز پر قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
اس دورے کو مستقبل کے لیے ایک ایسے سنگِ میل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے جو دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے ساتھ ساتھ اقتصادی اور سیاسی میدان میں نئی راہیں کھول سکتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کے بعد برطانیہ اور امریکہ کا بھی سفر کریں گے جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سمیت دیگر اہم ملاقاتوں میں شرکت کریں گے، لیکن سعودی عرب کے اس مختصر دورے نے پہلے ہی سفارتی دنیا میں ایک مثبت پیغام دیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کی قربت نہ صرف قائم ہے بلکہ مزید بڑھ رہی ہے۔
