دوحہ: اسرائیل کے قطر پر شدید حملے کے فوراً بعد حماس کے سینئر رہنما غازی حماد پہلی بار ٹی وی پر منظر عام پر آئے اور اس حملے کے بعد کی صورتحال سے آگاہ کیا۔ عرب میڈیا کے مطابق غازی حماد نے بتایا کہ ان کا مذاکراتی وفد امریکی پیشکش پر قطری مصالحت کاروں کے ساتھ بات چیت میں مصروف تھا کہ اچانک ایک زور دار دھماکے کی آواز سنائی دی۔
حماس رہنما نے کہا کہ انہیں فوراً اس بات کا اندازہ ہو گیا کہ یہ دھماکے اسرائیلی بمباری کے ہیں، جس پر وفد فوری طور پر جائے وقوع سے روانہ ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں ان کے آس پاس لگ بھگ 12 راکٹ بلا تعطل پھٹے، جو بمباری کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، قطر پر اس حملے سے پہلے اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پہلے سے آگاہ کر دیا تھا، جس سے اس حملے کی منصوبہ بندی اور سیاسی پیچیدگیوں کا اندازہ ہوتا ہے۔
غازی حماد نے بتایا کہ اس روز وہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے رکھی گئی یرغمالیوں کے لیے تجاویز پر بات چیت کر رہے تھے، لیکن اچانک ہونے والی بمباری نے اس مزاکراتی عمل کو شدید متاثر کیا۔ حملے میں حماس کے 5 ارکان اور ایک قطری سیکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے، جو اس واقعے کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے۔
حماس رہنما نے کہا کہ ان بمباریوں کے باوجود اللہ نے انہیں محفوظ رکھا، اور وہ اس حملے سے بچ کر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ ان کا یہ بیان حماس کے عزم اور صبر کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ اس واقعے نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
