ان مشقوں میں خاص طور پر فضائی خطرات بشمول ڈرونز کا پتہ لگانے، ان کی نگرانی اور انہیں تباہ کرنے کے لیے جدید ریڈارز، سینسرز اور ہتھیاروں کو مربوط کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔ یہ جدید تکنیک علاقائی اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے ڈرون خطرات سے نمٹنے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو رہی ہیں۔
اس موقع پر امریکی سینٹرل کمانڈ کی سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے سعودی عرب کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سعودی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل فیاض الرویلی کے ہمراہ مشقوں کا معائنہ کیا اور ‘ریڈ سینڈز انٹیگریٹڈ ایکسپیریمینٹیشن سینٹر’ کا بھی دورہ کیا۔ علاوہ ازیں، ایڈمرل بریڈ کوپر نے سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے بھی ملاقات کی، جس میں دفاعی تعاون اور خطے کی حالیہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے سوشل میڈیا پر کہا کہ دونوں ملکوں نے خطے میں امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں کو مضبوط کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایڈمرل بریڈ کوپر نے بھی کہا کہ ڈرونز میں جدت کے باعث خطرات بڑھ گئے ہیں، اور ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے علاقائی شراکت داری اور جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔
یاد رہے کہ سال 2025 کے آغاز میں سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان مشترکہ بحری مشقوں کا انعقاد بھی کیا گیا تھا جس سے دو طرفہ فوجی تعاون مزید مستحکم ہوا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ڈرونز کو روکنے کے لیے استعمال ہونے والے 12 گیج شاٹ ڈی ڈی آرز راؤنڈز میں ہر شیل 720 ٹنگسٹن چھروں پر مشتمل ہوتا ہے جو سیسے کے چھروں سے زیادہ موثر اور گھنے ہوتے ہیں۔
سینٹرل کمانڈ کے سابق کمانڈر جوزف ووٹل نے ‘العربیہ’ کو بتایا کہ اس قسم کی مشقیں جنگی ضروریات اور جدید ٹیکنالوجی کے تناظر میں بے حد اہم ہیں اور ایسی کوششوں کو سراہا جانا چاہیے۔
