البانیا کے دارالحکومت تیرانا میں رواں ہفتے سعودی عرب کی جانب سے منعقد ہونے والا ’’سعودی ہفتۂ ثقافت‘‘ ایک ایسے وقت میں جاری ہے جب مملکت عالمی سطح پر اپنے ثقافتی ورثے کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کے لیے متنوع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ 16 سے 20 ستمبر تک جاری اس تقریب کی میزبانی البانیا کی وزارتِ ثقافت کر رہی ہے، جہاں مقامی عوام، فن کار اور عالمی مبصرین بڑی تعداد میں شریک ہو رہے ہیں۔
اس تقریب کا سب سے نمایاں شعبہ ’’شہزادہ محمد بن سلمان عالمی مرکز برائے خطاطی‘‘ کا اسٹال رہا، جس نے عربی خطاطی کی جاذبِ نظر نمائشوں اور عملی ورکشاپوں کے ذریعے زائرین کو بے حد متاثر کیا۔ ماہرین نے نہ صرف خطاطی کی باریکیاں سمجھائیں بلکہ نئے فنکاروں کو اس ہنر کے مختلف مراحل سے روشناس بھی کرایا۔ اس دلچسپ تجربے نے خطاطی کو محض ایک فن نہیں بلکہ ایک ثقافتی ورثہ ثابت کیا جو سعودی عرب کو دنیا بھر کی اسلامی شناخت سے جوڑتا ہے۔
یہ ہفتہ صرف فنونِ لطیفہ تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک جامع اور ہمہ جہت پروگرام کے طور پر سامنے آیا۔ سعودی لائبریری کے نایاب مخطوطات کو پہلی مرتبہ تیرانا کے عوام کے سامنے پیش کیا گیا، جنہیں دیکھنے والوں نے انتہائی قیمتی علمی سرمایہ قرار دیا۔ اس کے ساتھ ہی سعودی سینما کی منتخب فلموں کی نمائش، روایتی ملبوسات کا تعارف، یونیسکو میں درج سعودی تاریخی و ثقافتی مقامات کے بارے میں دستاویزی مواد، قدیم نوادرات کی نقول اور سعودی قہوہ و کھانوں کے ذائقے زائرین کے لیے ایک مکمل ثقافتی سفر میں ڈھل گئے۔
تقریب میں سعودی اور البانوی فنکاروں کے درمیان عملی ورکشاپیں بھی منعقد ہوئیں جہاں دونوں ممالک کے ماہرین نے اپنے تجربات کا تبادلہ کیا۔ اس کے علاوہ ممتاز دانشوروں اور ادیبوں نے مکالماتی نشستوں میں شریک ہو کر ادب اور ثقافت کے ذریعے تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ یہ سب کچھ سعودی عرب کے ’’ہنرمندیوں کا سال 2025‘‘ کے اعلان کے تناظر میں کیا گیا، تاکہ عوام کو اس پہلو سے آگاہ کیا جا سکے کہ ہنر نہ صرف معیشت بلکہ قومی شناخت کی بنیاد بھی ہوتا ہے۔
سعودی عرب کے متعدد ثقافتی اداروں نے اس ہفتے میں شرکت کی جن میں موسیقی، ترجمہ و اشاعت، روایتی فنون، تھیٹر اور کھانوں کے ادارے شامل تھے۔ شہزادہ محمد بن سلمان عالمی مرکز برائے خطاطی اور شاہی ادارہ برائے روایتی فنون کی شرکت نے اس پروگرام کو مزید تقویت بخشی۔ دراصل یہ سب کچھ سعودی وژن 2030 کا حصہ ہے، جس کے تحت مملکت عالمی سطح پر اپنی ثقافتی موجودگی کو وسعت دینے کے لیے سرگرم ہے۔
یہ ہفتہ البانیا تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑے منصوبے کا تسلسل ہے جس کے تحت سعودی وزارتِ ثقافت مختلف برادر اور دوست ممالک میں ایسے پروگرام منعقد کر رہی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ سعودی عرب اپنی قدیم تہذیب اور فنون کو عالمی سطح پر روشناس کرائے، مختلف معاشروں کے ساتھ ثقافتی تبادلے کے راستے کھولے اور دنیا بھر میں اپنے مثبت تشخص کو اجاگر کرے۔
البانیا میں منعقدہ سعودی ہفتۂ ثقافت محض ایک نمائش نہیں بلکہ ایک پل ہے جو مشرقِ وسطیٰ کے ورثے کو یورپ کی سرزمین سے جوڑ رہا ہے، اور ساتھ ہی اس بات کا اعلان بھی کر رہا ہے کہ سعودی عرب آنے والے برسوں میں دنیا کی ثقافتی سفارت کاری میں ایک فعال کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
