برطانیہ نے تاریخ رقم کر دی ہے۔ پہلی بار برطانوی حکومت نے اپنے سرکاری آن لائن نقشہ جات اور دیگر سرکاری پلیٹ فارمز پر "فلسطینی مقبوضہ علاقوں” کی اصطلاح کو ختم کر کے "ریاستِ فلسطین” کے طور پر اندراج کر دیا ہے۔ یہ علامتی نہیں، بلکہ ایک واضح سیاسی اور سفارتی قدم ہے جو فلسطین کو بطور خودمختار ریاست تسلیم کرنے کے عملی مظاہر میں شامل کیا جا رہا ہے۔ یہ تبدیلی اُس وقت سامنے آئی جب وزیراعظم کیر اسٹارمر نے پریس کانفرنس میں فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا، اور کہا کہ برطانیہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن، دو ریاستی حل، اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔
برطانوی اخبار ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق، برطانوی وزارتِ خارجہ نے اپنی مختلف سرکاری ویب سائٹس پر جن صفحات پر پہلے "Occupied Palestinian Territories” یعنی "فلسطینی مقبوضہ علاقے” لکھا ہوتا تھا، اب انہیں تبدیل کر کے "فلسطین” درج کر دیا ہے۔ ان صفحات میں اسرائیل و فلسطین سے متعلق سفری ہدایات، غیر ملکی دفاتر کی فہرست اور مشرقِ وسطیٰ کا سرکاری نقشہ شامل ہیں۔ یہ نہ صرف برطانیہ کے خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی علامت ہے بلکہ فلسطینی عوام کے لیے عالمی سطح پر بڑھتی حمایت کا بھی ثبوت ہے۔
وزیراعظم کیر اسٹارمر نے اس اعلان کے دوران حماس کے کردار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "حماس کا فلسطین کے مستقبل میں کوئی کردار نہیں ہوگا، نہ حکومت میں اور نہ ہی سکیورٹی کے کسی شعبے میں”۔ انہوں نے کہا کہ "ہم اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم ہلاکتوں، قبضے اور جنگ کو جاری رکھنا چاہتے ہیں یا پائیدار امن کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں۔”
یاد رہے کہ برطانیہ اب جی-سیون کے ان تین بڑے ممالک میں شامل ہو چکا ہے جنہوں نے فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔ اس سے قبل کینیڈا اور آسٹریلیا بھی ریاستِ فلسطین کو تسلیم کر چکے ہیں۔ یہ تمام اقدامات ایسے وقت پر ہو رہے ہیں جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ سربراہی میں ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس پیر کے روز منعقد ہونے جا رہی ہے۔ اس کانفرنس میں توقع کی جا رہی ہے کہ مزید یورپی و عالمی ممالک بالخصوص فرانس ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے۔
برطانیہ کے اس اقدام کو عالمی سطح پر ایک جرات مندانہ اور فیصلہ کن قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو نہ صرف فلسطینیوں کی حمایت کا اظہار ہے بلکہ عالمی سفارت کاری میں ایک نئے باب کی بھی علامت ہے۔ نقشوں میں تبدیلی ایک علامتی عمل ضرور ہے، لیکن یہ اس بڑی پالیسی تبدیلی کا عکاس ہے جو مغربی دنیا کے کئی ممالک اب فلسطین کے حوالے سے اختیار کر رہے ہیں۔
