حائل اتھارٹی کی آثارِ قدیمہ کو مستقبل کا سرمایہ بنانے کی مہم کی جارہی ہےاردن میں سیاحت اور آثارِ قدیمہ کے میدان میں حاصل کی گئی کامیابیاں خطے کے دیگر ممالک کے لیے مشعلِ راہ بنتی جا رہی ہیں۔ اسی مقصد کے تحت حائل ریجن ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے ایک وفد نے حال ہی میں اردن کا مطالعاتی دورہ کیا تاکہ یہ جانا جا سکے کہ کس طرح اردن نے اپنے تاریخی ورثے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا، اور ان قیمتی مقامات کو ثقافتی، معاشی اور سیاحتی اثاثوں میں تبدیل کر کے ترقی کی راہیں ہموار کیں۔
عرب نیوز کے مطابق، اس دورے کا محور صرف آثارِ قدیمہ کو محفوظ کرنا نہیں تھا بلکہ اس میں اس پہلو پر خاص توجہ دی گئی کہ مقامی کمیونٹی کو ان مقامات کی پائیدار ترقی سے کس طرح جوڑا جا سکتا ہے۔ وفد نے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی سائٹس کا بھی دورہ کیا، جن میں وادیِ رم خصوصی اہمیت کی حامل تھی۔ یہاں قدیم نقوش، صحرا میں سیاحتی کیمپوں اور سرمایہ کاری کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
دورے کے دوران وفد نے پیٹرامیں واقع تاریخی مقامات کا مشاہدہ کیا اور وزیٹر سینٹرمیں سیاحتی ماڈلز کے بارے میں بصیرت حاصل کی۔ وہاں انھیں یہ بھی بتایا گیا کہ ٹیکنالوجی، تحفظ، اور تجرباتی سیاحت کو کس طرح مؤثر انداز میں یکجا کیا جا سکتا ہے۔
وفد کی کوآپریٹِو سوسائٹیوں اور مقامی دستکاروں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں بھی نہایت اہم ثابت ہوئیں۔ ان ملاقاتوں میں یہ سمجھنے کا موقع ملا کہ اردن کس طرح مقامی سطح پر روزگار، ثقافت کے تحفظ، اور سیاحتی تجربے کو یکجا کر رہا ہے۔
اتھارٹی کے سی ای او، عمر عبدالجبار نے اس دورے کو علمی اور تجرباتی سرمایہ کاری قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اردن نے عالمی سطح پر جس مہارت کے ساتھ اپنی وراثت کو منوایا ہے، وہ حائل ریجن کے لیے بھی ایک مثال ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا مقصد یہ سیکھنا ہے کہ کس طرح آثارِ قدیمہ کو قومی معیشت کے تنوع اور عالمی سیاحت کا حصہ بنایا جا سکتا ہے، بالکل ویسا ہی جیسا ہم سعودی وژن 2030
کے تحت چاہتے ہیں۔
عبدالجبار کے مطابق، حائل میں موجود تاریخی مقامات کو محفوظ کر کے، وہاں جدید سیاحتی ڈھانچےکو فروغ دینا، نہ صرف مقامی معیشت بلکہ بین الاقوامی سیاحوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے
