جازان/ریاض:بحیرۂ احمر کے نیلگوں ساحلوں پر جہاں موجیں صدیوں کی تاریخ اپنے ساتھ لاتی ہیں، سعودی عرب کی روایتی جہاز سازی کی داستان اب بھی زندہ ہے۔ فرسان جزائر کے محقق اور میری ٹائم ماہر ابراہیم مفتاح کہتے ہیں کہ وہ دن دور نہیں جب یہ ہنر صرف کتابوں میں رہ جائے گا، کیونکہ نوجوان نسل سمندر کے بارے میں بہت کم جانتی ہے۔
مفتاح نے اسی فکر کے تحت "سنبوک” کے نام سے کتاب لکھی جس میں نقشے، توضیحات اور تاریخی پس منظر کے ساتھ سعودی جہاز سازی کے فن کو محفوظ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق جدیدیت نے بادبانی جہازوں کو انجنوں سے بدل دیا اور بندرگاہوں کی سخت محنت نوجوانوں کے نئے پیشہ ورانہ مواقع کے سامنے ماند پڑ گئی۔
تاہم سعودی عرب اس روایت کو مٹنے نہیں دینا چاہتا۔ وزارتِ ثقافت اور ہیرٹِج کمیشن نے جہاز سازی کو اپنی پالیسی میں کلیدی حیثیت دی ہے۔ جازان کے تاریخی دیہات اور مشرقی صوبے کا ایسٹرن کوسٹ فیسٹیول دوبارہ اس ہنر کو زندہ کر رہے ہیں، جہاں ماہر کاریگر ’قلافہ‘ یعنی لکڑی سے جہاز سازی کے عمل کو براہِ راست پیش کرتے ہیں۔
کاریگر نصر عبدالطیف الدھیم کے مطابق یہ فن خلیج کا سب سے قدیم معمول ہے۔ چھوٹی کشتی تین ماہ میں جبکہ بڑے جہاز ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے میں پانچ سے دس کاریگروں کی محنت سے تیار ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ "یہ کام جسمانی مشقت سے بھرپور ہوتا ہے، لیکن اس کی ثقافتی اہمیت کو ختم نہیں ہونا چاہیے۔”
سعودی حکومت نے سنہ 2025 کو دستکاری کا سال قرار دیا ہے، جس کے تحت جہاز سازی سمیت تمام روایتی فنون کو فروغ دیا جائے گا۔ اس منصوبے میں تربیتی پروگرام، عالمی نمائشیں، تحقیقی منصوبے اور تعلیمی نصاب شامل ہیں تاکہ سعودی نوجوان اس فن سے روشناس ہو کر اسے آگے بڑھا سکیں۔
جازان ہیرٹج ویلج اور ریاض میں منعقدہ سعودی انٹرنیشنل ہینڈی کرافٹس ویک جیسے بڑے ایونٹس اس کوشش کا حصہ ہیں، جہاں سیاح اور مقامی لوگ نہ صرف تاریخ سے جڑتے ہیں بلکہ جہاز سازی کو ایک زندہ تجربے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یہ اقدامات نہ صرف سعودی ثقافتی ورثے کو محفوظ کر رہے ہیں بلکہ تیزی سے جدیدیت کی جانب بڑھتے ملک میں قومی شناخت کو بھی مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔
