ترکی کی قومی فضائی کمپنی ترکش ایئرلائنز نے ایک نہایت بڑا اور تاریخی فیصلہ کیا ہے جس کے مطابق وہ اپنے ہوائی بیڑے میں دو سو پچیس (225) نئے اور جدید طیارے شامل کرنے جا رہی ہے۔
اس فیصلے کو ترکی کی ہوا بازی کی صنعت میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف کمپنی کی پروازوں کی استعداد میں بے پناہ اضافہ ہوگا بلکہ دنیا بھر میں اس کے نیٹ ورک کو مزید وسعت بھی ملے گی۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب ترکش ایئرلائنز نے استنبول اسٹاک ایکسچینج کو ایک باضابطہ اعلامیہ بھیجا۔ اس بیان میں واضح کیا گیا کہ کمپنی نے امریکہ کی معروف طیارہ ساز کمپنی بوئنگ سے 75 جدید بوئنگ بی787-9 اور بی787-10 ڈریم لائنر طیارے حاصل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
یہ دونوں ماڈلز جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ ہیں، جو کم ایندھن استعمال کرتے ہیں اور طویل فاصلے کی پروازوں کے لیے خاص طور پر تیار کیے گئے ہیں۔ ان میں مسافروں کے لیے آرام دہ سہولتیں، کشادہ ڈیزائن اور ایندھن کی بچت کرنے والے انجن شامل ہیں، جو انہیں دنیا کی بہترین کمرشل پروازوں میں شمار کراتے ہیں۔
ترکش ایئرلائنز نے صرف یہی نہیں بلکہ بوئنگ کمپنی سے مزید 150 طیارے خریدنے کے لیے بھی مذاکرات مکمل کیے ہیں۔ یہ طیارے 737-8 اور 737-10 میکس ماڈلز کے ہوں گے، جنہیں دنیا بھر کی مختلف ایئرلائنز قلیل اور درمیانی فاصلے کی پروازوں کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
ان 150 طیاروں میں سے سو (100) طیاروں کے آرڈرز مکمل طور پر یقینی ہیں جبکہ پچاس (50) آرڈرز اختیاری رکھے گئے ہیں، تاکہ ضرورت کے مطابق انہیں بعد میں حتمی بنایا جا سکے۔ اس حوالے سے کمپنی نے انجن فراہم کرنے والی عالمی کمپنی سی ایف ایم انٹرنیشنل کے ساتھ بھی کامیاب مذاکرات کیے ہیں تاکہ ان نئے طیاروں کے انجنوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس بڑے معاہدے کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ ترکش ایئرلائنز نے اعلان کیا ہے کہ بی787 ڈریم لائنر طیاروں میں سے 50 آرڈرز تصدیق شدہ ہیں، جبکہ 25 طیارے اختیاری فہرست میں رکھے گئے ہیں۔
یہ طیارے مرحلہ وار ترکی کو فراہم کیے جائیں گے، جن کی ترسیل کا دورانیہ سنہ 2029 سے شروع ہوگا اور 2034 تک مکمل ہوگا۔ اس طرح اگلے دس سالوں میں ترکش ایئرلائنز کا بیڑہ نہ صرف جدید ترین پروازوں سے لیس ہوگا بلکہ عالمی معیار کی خدمات بھی فراہم کرے گا۔
کمپنی نے اس معاہدے کے ساتھ یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ طیاروں کے انجنوں، پرزہ جات اور مرمت سے متعلق معاملات کے لیے دنیا کی دو بڑی کمپنیوں رولز رائس اور جی ای ایروسپیس سے بھی بات چیت کر رہی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترکش ایئرلائنز صرف طیارے خریدنے تک محدود نہیں ہے بلکہ ان کی دیکھ بھال اور طویل مدتی پائیداری کو بھی اپنے منصوبے کا حصہ بنا رہی ہے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے حال ہی میں واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے فوراً بعد اس بڑے تجارتی اور صنعتی معاہدے کا اعلان ہونا ترکی اور امریکہ کے تعلقات کی سمت میں ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
سابقہ برسوں میں امریکہ اور ترکی کے تعلقات اس وقت کشیدہ ہو گئے تھے جب انقرہ نے روس سے جدید فضائی دفاعی نظام خریدا تھا۔ اس اقدام کے نتیجے میں امریکہ نے ترکی کو 2019 میں اپنے ایف-35 لڑاکا طیاروں کے پروگرام سے باہر کر دیا تھا۔ تاہم اب ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں عندیہ دیا ہے کہ امریکہ جلد ہی ترکی پر جدید لڑاکا طیارے خریدنے پر عائد پابندیاں اٹھا سکتا ہے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ترکش ایئرلائنز پہلے ہی دنیا کے سب سے بڑے فضائی نیٹ ورکس میں شمار ہوتی ہے اور اس کے طیارے تقریباً ہر براعظم تک رسائی رکھتے ہیں۔ اس نئے فیصلے کے بعد یہ کمپنی نہ صرف اپنی سروسز کو مزید پھیلائے گی بلکہ مسافروں کو زیادہ آرام دہ، محفوظ اور ماحول دوست پروازوں کی سہولت بھی دے سکے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے ترکی عالمی ہوا بازی کی صنعت میں ایک اور بڑا قدم آگے بڑھائے گا اور مستقبل میں یہ ایئرلائن دنیا کی چند سب سے بڑی ایئرلائنز میں شامل ہو سکتی ہے۔
