دمشق:شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے ایک خصوصی انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیلی حملوں نے پورے شام کو حیرت میں ڈال دیا۔ ان حملوں نے نہ صرف ملک کو غیر مستحکم کیا بلکہ خطے میں قیام امن کی نئی کوششوں پر بھی کاری ضرب لگائی۔
گزشتہ روز سی این این پر نشر ہونے والے اس انٹرویو میں اسعد الشیبانی نے اسرائیل پر براہ راست الزام عائد کیا کہ وہ شام میں امن کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی جارحیت نے شام کو جنوبی علاقوں میں بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ فسادات اور غیر قانونی گروہوں کے حملوں کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا ہم ایک مضبوط، متحد اور پرامن شام کی خواہش رکھتے ہیں جو نہ صرف ہماری قوم بلکہ اسرائیل اور پورے خطے کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ لیکن اسرائیل کی مسلسل مداخلت اور حملے ہماری امن پالیسیوں کے خلاف کھلی جنگ کے مترادف ہیں۔
وزیر خارجہ نے انکشاف کیا کہ ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ ملیشیا نے بشار الاسد کی حکومت کے زوال کے بعد شام سے کنارہ کشی اختیار کر لی، جس سے شامی عوام کو سخت دھچکا لگا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے دروز اور بدوی قبائل کے درمیان جاری تنازعات کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا دیا۔
اسرائیل نے نہ صرف فوجی حملے کیے بلکہ قبائلی سطح پر بھی حالات خراب کیےجس سے دروز برادری کو ایک مشکل اور شرمندگی بھرے مقام پر کھڑا کر دیا گیا۔”
اسعد الشیبانی نے واضح کیا کہ شام کسی بھی ہمسایہ ملک، حتیٰ کہ اسرائیل کے لیے بھی خطرہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی حکومت امن، استحکام اور علاقائی تعاون کی پالیسیوں پر کاربند ہے، مگر ان کوششوں کو بیرونی حملوں اور سازشوں کا سامنا ہے۔
شامی وزیر خارجہ نے امریکہ کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کے اقدام کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ واشنگٹن نے شام کے حوالے سے "آزادی کے دن سے اب تک” مثبت مؤقف اپنایا ہے، جسے شامی عوام کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے شام میں فوجی اہداف پر فضائی حملوں کا آغاز کیا اور پچاس سال میں پہلی مرتبہ زمینی افواج کو غیر فوجی بفر زون کے اندر اور باہر تعینات کیا جو کہ ایک غیر معمولی اور خطرناک پیش رفت ہے۔
