سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدہ عالمی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو رہا ہے، جو نہ صرف خطے کی تزویراتی سمت کو بدلنے والا قدم ہے بلکہ دنیا کو امریکی بالادستی سے باہر نکلتی ہوئی نئی صف بندیوں کی واضح جھلک بھی دے رہا ہے۔ یہ معاہدہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر امریکہ کے کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں، اور مشرقِ وسطیٰ و جنوبی ایشیا میں نئی سیکیورٹی ترجیحات جنم لے رہی ہیں۔
اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ کے تحت سعودی عرب اور پاکستان نے عزم کیا ہے کہ کسی ایک پر حملے کی صورت میں دوسرا ملک اسے اپنی خودمختاری پر حملہ تصور کرے گا اور بھرپور دفاعی تعاون فراہم کرے گا۔ یہ معاہدہ بظاہر ایک روایتی دفاعی تعاون کی دستاویز لگ سکتا ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک بڑی جیو اسٹریٹیجک تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔
خلیجی ممالک، بالخصوص سعودی عرب، طویل عرصے تک اپنی سلامتی کے لیے امریکہ پر انحصار کرتے رہے، لیکن حالیہ برسوں میں واشنگٹن کی "غیر دلچسپی” اور غیر واضح خارجہ پالیسی نے خطے کے شراکت داروں کو مایوس کیا۔ قطر کی مثال سب کے سامنے ہے—جہاں امریکہ کے سب سے بڑے مشرق وسطیٰ فوجی اڈے کی موجودگی کے باوجود، اسرائیلی حملوں کے دوران قطر کو صرف چند منٹ کی وارننگ ملی۔ اس سے خلیجی ریاستوں میں یہ احساس گہرا ہوا کہ اب انہیں اپنی سلامتی کے متبادل ذرائع تلاش کرنا ہوں گے۔
سعودی عرب کی جانب سے پاکستان سے قربت اختیار کرنا اس وقت بھی معنی خیز ہو جاتا ہے جب ہم پاکستان کی جوہری صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہیں۔ خطے میں بھارت اور ایران جیسے ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی دفاعی سرگرمیوں کے تناظر میں، یہ معاہدہ ریاض کے لیے نہ صرف عسکری تحفظ بلکہ اسٹریٹجک توازن کی ضمانت بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت اس پیشرفت پر خاصا پریشان دکھائی دیتا ہے، جس نے حالیہ برسوں میں سعودی عرب اور اسرائیل دونوں سے قریبی تعلقات قائم کر کے پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کی تھی۔
عالمی ماہرین اس معاہدے کو ایک ایسے "پوسٹ امریکن ورلڈ” کی جھلک قرار دے رہے ہیں، جس میں ممالک امریکی سیکیورٹی چھتری کے بغیر اپنے خودمختار اتحاد بنا رہے ہیں۔ چین کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت، روس کی جارحانہ حکمت عملی، اور اب سعودی عرب و پاکستان جیسے ممالک کے باہمی اتحاد، عالمی نظام کے نئے خاکے کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
یاد رہے کہ 2015 میں یمن جنگ میں سعودی شرکت کے معاملے پر پاکستان کے انکار نے دونوں ممالک کے تعلقات میں سردمہری پیدا کی تھی، تاہم حالیہ برسوں میں چین کی سرمایہ کاری اور علاقائی تناؤ نے دونوں کو دوبارہ قریب لا دیا ہے۔ سعودی عرب کی امداد اب محض قرضوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں اسٹریٹجک تعاون کی جھلک بھی شامل ہو گئی ہے۔
