ریاض/کویت سٹی: کویت اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ سمندری گیس فیلڈ "الدرۃ” میں سروے کا کام باقاعدہ طور پر شروع ہو گیا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ پیش رفت ضروری مطالعات اور انجینئرنگ اقدامات کی تکمیل کے بعد سامنے آئی ہے، جو منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔
ابتدائی جائزوں کے مطابق الدرۃ فیلڈ میں تقریباً 20 کھرب مکعب فٹ قدرتی گیس کے ذخائر موجود ہیں، جو خطے میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے اور مستقبل کے توانائی تحفظ میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈرلنگ کا آغاز آئندہ سال کیا جائے گا، جس کے لیے آلات اور مشینری کے انتخاب و ڈیزائن کے بعد ایک خصوصی کمپنی کو ٹھیکہ دیا جائے گا۔
یہ فیلڈ سعودی عرب اور کویت کے شمالی سمندری علاقے میں واقع ہے اور دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے اشتراک کی ایک اہم مثال سمجھی جا رہی ہے۔ منصوبے کی ترقی کے لیے آرامکو فور گلف آپریشنز اور کویت گلف آئل کمپنی کے درمیان باقاعدہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں۔ یہ معاہدہ مارچ 2022 میں طے پانے والے ترقیاتی معاہدے پر عمل درآمد کا تسلسل ہے۔
مفاہمتی معاہدے کے بعد منصوبے پر عملی کام فوری طور پر دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے اور اسے طے شدہ پروگرام اور شیڈول کے مطابق تیزی سے آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کو خطے میں توانائی کے شعبے کی ترقی اور استحکام کی ایک بڑی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ الدرۃ فیلڈ کی ترقی 24 دسمبر 2019 کو سعودی عرب اور کویت کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت کی جا رہی ہے۔ سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے حالیہ بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ سمندری سرحدی علاقے میں موجود تمام قدرتی وسائل دونوں ممالک کی مشترکہ ملکیت ہیں اور صرف ان ہی کو ان وسائل کے مکمل اور خودمختارانہ استعمال کا حق حاصل ہے۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق الدرۃ فیلڈ کی ترقی نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان توانائی شراکت داری کو مزید مضبوط بنائے گی بلکہ خطے میں اقتصادی تعاون کے نئے دروازے بھی کھولے گی۔
