غزہ کی پٹی ایک بار پھر شدید اسرائیلی حملوں کی زد میں ہے، جہاں غزہ سٹی، دیر البلح اور خان یونس میں کی گئی بمباری کے نتیجے میں ایک بچے اور ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز (MSF) کے ایک رکن سمیت کم از کم 13 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان حملوں کے دوران علاقے کی فضا ایک بار پھر دھوئیں اور چیخوں سے گونج رہی ہے، جب کہ دوسری طرف سفارتی محاذ پر تیزی آ گئی ہے۔
مصر، قطر اور ترکیہ مشترکہ طور پر حماس کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی امن منصوبے کو قبول کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس منصوبے میں فوری جنگ بندی، قیدیوں کا تبادلہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا، حماس کو غیر مسلح کرنا اور بین الاقوامی نگرانی میں عبوری حکومت کا قیام شامل ہے۔
مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا ہے کہ اگرچہ قاہرہ اس منصوبے کی اصولی حمایت کرتا ہے، تاہم گورننس اور سیکیورٹی جیسے اہم نکات پر مزید بات چیت ناگزیر ہے۔ ا
نہوں نے واضح کیا کہ مصر کسی صورت غزہ کے شہریوں کی نقل مکانی کو قبول نہیں کرے گا کیونکہ یہ فلسطینی کاز کے خاتمے کے مترادف ہو گا۔ ادھر فرانس نے امریکی منصوبے کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے حماس سے فوری ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
فرانسیسی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ حماس اس جنگ میں ہار چکی ہے اور اب مزید تباہی سے بچنے کے لیے اسے پیچھے ہٹ جانا چاہیے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتین نے بھی ٹرمپ کے امن منصوبے کو "سرنگ کے آخر میں روشنی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ منصوبہ فلسطینی ریاست کے قیام کا باعث بنتا ہے تو روس اس کی حمایت کرنے کو تیار ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے حماس کے ممکنہ انکار پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حماس پیچھے ہٹی تو صدر ٹرمپ واضح "ریڈ لائن” کھینچیں گے اور فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں گے۔ ان تمام تر بیانات اور اقدامات کے بیچ، دنیا نظریں جمائے ہوئے ہے کہ آیا جنگ زدہ غزہ کو واقعی امن کی کوئی سبیل مل پاتی ہے یا نہیں۔
