یروشلم / تل ابیب:جنوبی اسرائیل کے غیر آباد علاقوں میں اس وقت خطرے کے آلارم بج اٹھےجب یمن کے حوثی باغیوں نے اسرائیل کی جانب متعدد ڈرون داغے اسرائیلی فوج کے مطابق ایک گھنٹے کے اندردو حملے کیے گئے جنہیں میزائل شکن نظام نے فضا ہی میں ناکارہ بنا دیا۔
فوجی ترجمان نے “ایکس” (سابق ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ یمن سے آنے والے ڈرونز کو اسرائیلی فضائی دفاعی نظام نے جنوبی سرحد کے قریب روک کر تباہ کیا۔ ان کے مطابق، ڈرونز کا رخ غیر آباد علاقوں کی جانب تھا، تاہم احتیاطی طور پر خطرے کے آلارم بجا دیے گئے۔
اسرائیلی عبرانی اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق، پہلا ڈرون مصر کے ساتھ سرحدی علاقے میں روکا گیا۔ فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ دوسرا ڈرون تقریباً ایک گھنٹے کے وقفے سے دوبارہ داغا گیا، جسے بھی کامیابی سے تباہ کر دیا گیا۔
فوج نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فضائیہ مسلسل ریڈ سی (بحیرہ احمر) کے اوپر مشکوک فضائی نقل و حرکت کی نگرانی کر رہی ہے تاکہ حوثیوں کے کسی بھی ممکنہ حملے کو روکا جا سکے۔اب تک حوثی گروپ کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم ماضی میں وہ اسرائیلی اہداف کے خلاف ڈرون اور میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے رہے ہیں۔
یمن کے حوثی باغی طویل عرصے سے بحیرہ احمر میں اسرائیلی پرچم بردار جہازوں اور ان شپنگ لینز کو نشانہ بناتے آئے ہیں جن کی منزل اسرائیل ہوتی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ کارروائیاں غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی آپریشن کے ردعمل کے طور پر کی جا رہی ہیں، تاکہ اسرائیل پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں متعدد جوابی فضائی حملے کرچکی ہے تاکہ ان کے لانچنگ پوائنٹس اور کمانڈ سینٹرز کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
فوجی ترجمان کے مطابق، منگل کے روز یمن سے ایک گھنٹے کے اندر چار ڈرونز شہر ایلات کی سمت بھیجے گئے تھے، جنہیں فضائی دفاعی نظام نے روک لیا۔تاہم ماضی میں ایسے حملے مہلک ثابت ہوئے ہیں۔ 24 ستمبر کو یمن سے بھیجا گیا ایک ڈرون ایلات کے ایک ہوٹل کے قریب گرا، جس کے نتیجے میں 50 اسرائیلی زخمی ہوئے تھے، جن میں تین کی حالت نازک تھی۔
اس وقت اسرائیلی فوج اپنے دفاعی نظام کو فعال کرنے میں ناکام رہی تھی، جس پر ملک بھر میں شدید تنقید کی گئی۔
عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی یہ کارروائیاں خطے میں ایران-اسرائیل پراکسی تنازع کا حصہ ہیں۔ان کے مطابق، اگر حوثی گروپ اسرائیل کے جنوبی علاقوں تک بار بار رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہا تو یہ اسرائیلی فضائی دفاعی صلاحیتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
