واشنگٹن/یروشلم :امریکی نائب صدر جےڈی وینس نے کہا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والا جنگ بندی معاہدہ برقرار رکھنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ اس دوران مختلف خلاف ورزیاں اور کشیدگیاں متوقع ہیں۔ انہوں نے اتوار کی شب اینڈروز مشترکہ فضائی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال بلاشبہ مثالی نہیں ہے، تاہم 10 اکتوبر سے نافذ ہونے والا یہ معاہدہ اسرائیل اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان پائیدار امن کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ یقیناً معاملہ پیچیدہ ہے اور اس میں اتار چڑھاؤ آئیں گے، لیکن ہمارا ماننا ہے کہ یہی معاہدہ دیرپا امن کے لیے بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواہ امن قائم بھی ہو جائے، ہمیں صورت حال پر مسلسل نظر رکھنا ہوگی۔
جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نکتہ درست ہے کہ ابھی ہمیں زمینی حقائق کا مکمل ادراک نہیں۔ ان کے مطابق جب ہم حماس کی بات کرتے ہیں تو ہم تقریباً چالیس مختلف اور غیر مربوط گروہوں کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ شاید جنگ بندی کی پابندی کریں، مگر بہت سے اس کی خلاف ورزی بھی کر سکتے ہیں۔ نائب صدر کا کہنا تھا کہ یہ کہنا ممکن نہیں کہ تین یا چار دن میں حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کر دیا جائے گا، کیونکہ اس کے لیے درکار سکیورٹی ڈھانچہ فی الحال موجود نہیں ہے جو اس عمل کو یقینی بنا سکے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں خبردار کیا تھا کہ اگر حماس نے ہتھیار نہیں ڈالے تو ہم خود یہ کام کریں گے، تاہم انہوں نے اس سلسلے میں کوئی وقت متعین نہیں کیا۔ ان بیانات کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ اسرائیلی فوج کے مطابق رفح کے علاقے میں حماس کے جنگجوؤں نے آر پی جی راکٹ اور سنائپر فائر سے حملے کیے، جس کے جواب میں اسرائیلی فضائیہ نے کارروائی کی۔
بعد ازاں اسرائیلی حکومت نے اعلان کیا کہ جنگ بندی دوبارہ نافذ کر دی گئی ہے۔ تاہم فلسطینی ذرائع کے مطابق گذشتہ روز اسرائیلی بمباری سے غزہ میں کم از کم بیس افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ حملوں کا نشانہ جنوبی شہر رفح، شمالی جبالیہ، وسطی نصیرات کیمپ اور دیگر علاقے بنے۔ عینی شاہدین کے مطابق کئی عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو گئیں اور متعدد خاندان بے گھر ہو گئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ بندی کا معاہدہ اگرچہ تنازع میں وقتی سکون پیدا کر سکتا ہے، مگر غیر مربوط حماس گروہوں اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث اس کے پائیدار ہونے کے امکانات غیر یقینی ہیں۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے مسلسل سفارتی دباؤ کے باوجود زمینی صورتحال بدستور نازک بنی ہوئی ہے۔
