غزہ کی صورتحال ایک بار پھر حساس موڑ پر آ گئی ہے، جہاں فلسطینی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ معاہدےپر مکمل طور پر کاربند ہے اور اس کے تمام کارکن جنگ بندی کے فیصلے کی پابندی کر رہے ہیں۔ تاہم رفح کے حالیہ واقعات نے اس پُرامن اتفاق رائے پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ’’العربیہ/الحدث‘‘ سے گفتگو میں کہا کہ تنظیم کو رفح میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں کوئی براہِ راست معلومات نہیں اور وہاں موجود مقامی گروہوں سے رابطہ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حماس جنگ بندی معاہدے کی مکمل پاسداری کے لیے پرعزم ہے۔
حازم قاسم نے اس امر کی تصدیق کی کہ ہتھیاروں کے مسئلے پر قومی سطح پر مکالمے کی گنجائش موجود ہے، مگر کوئی بھی فیصلہ صرف فلسطینی قومی اتفاق رائے اور سنجیدہ سیاسی مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ان کے مطابق، فلسطینی قوتیں اس مسئلے پر متحدہ لائحہ عمل تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حماس کا وفد اس وقت قاہرہ میں مذاکرات کر رہا ہے جہاں غزہ معاہدےکے بعد کے مرحلے پر بات چیت جاری ہے۔ ترجمان کے بقول، جنگ بندی کے نفاذ کے لیے ایک جامع قومی فلسطینی مکالمہ ناگزیر ہے، کیونکہ معاہدے کی باقی شقیں نہایت حساس اور پیچیدہ ہیں۔
حماس نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی کے بعد غزہ کے انتظامی امور میں اس کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر قومی سطح پر کسی فریق پر اتفاق ہو جائے تو وہ اس کی مکمل حمایت کرے گی۔
یہ مؤقف غزہ کی آئندہ حکمرانی کے نظام پر حماس کے لچکدار رویے کا اشارہ دیتا ہے، جو ایک نئے سیاسی توازن کی بنیاد بن سکتا ہے۔
فلسطینی قومی کونسل کے سیکریٹری جنرل فہمی الزعاریر نے ’’العربیہ/الحدث‘‘ سے گفتگو میں کہا کہ اس وقت عرب ممالک کے ساتھ ہم آہنگی اور گہرا فلسطینی مکالمہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ حماس کو فلسطینی اتھارٹی سے الگ حکمرانی کے تصور سے باہر آنا ہوگا اور ایک متحدہ قومی اسلحہ پالیسی اپنانی چاہیے تاکہ داخلی تقسیم ختم ہو سکے۔
ادھر فلسطینی سکیورٹی فورسز کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل انور رجب نے الزام عائد کیا کہ حماس کے اندر بعض گروہ جنگ بندی کے فیصلے کی مکمل پابندی نہیں کر رہے۔ ان کے مطابق، "حماس موجودہ مرحلے کو طویل کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ غزہ پر اپنی بالادستی برقرار رکھ سکے۔
اسی دوران بین الاقوامی سطح پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز حماس کو ایک مختصر مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر تنظیم نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی تو ’’اسے ختم کر دیا جائے گا۔
ٹرمپ کے ان بیانات سے قبل امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی اور انہیں غزہ جنگ بندی معاہدے کو خطرے میں ڈالنے سے باز رہنے کا مشورہ دیا۔
یہ تمام پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اتوار کے روز اسرائیل اور حماس نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات لگائے، جس کے نتیجے میں اسرائیلی فضائیہ نے رفح کے جنوبی علاقے پر متعدد فضائی حملے کیے۔
ماہرین کے مطابق، یہ صورتحال ایک نئے سیاسی امتحان کی نشاندہی کر رہی ہےجہاں حماس کو اپنی سیاسی بقا، داخلی اتحاد اور بین الاقوامی دباؤ کے درمیان توازن قائم رکھنا ہوگا۔ غزہ معاہدہ اس وقت امن کی آخری لکیر بن چکا ہے، جس کا تحفظ پورے خطے کے استحکام سے جڑا ہے۔
