جنیوا اس وقت ایک بار پھر دنیا کی پارلیمانی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے، جہاں انٹر پارلیمنٹری یونین (IPU) کے 151ویں جنرل اسمبلی اجلاس کا آغاز ہو گیا ہے۔ دنیا بھر سے پارلیمانی وفود اس عالمی اجتماع میں شریک ہیں جس میں مختلف ممالک کے اسپیکرز، اراکین پارلیمنٹ اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے شامل ہیں۔ ان ہی وفود میں ایک اہم اور فعال شرکت سعودی عرب کی شوریٰ کونسل کے وفد کی ہے جس کی قیادت شیخ ڈاکٹر عبداللہ بن محمد بن ابراہیم آل الشیخ کر رہے ہیں۔ یہ شرکت اس بات کا مظہر ہے کہ سعودی عرب عالمی سطح پر پارلیمانی سفارتکاری، مکالمے اور تعاون کو فروغ دینے میں مسلسل فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
اس اجلاس کا مرکزی موضوع اس سال ایک نہایت اہم عالمی مسئلے پر مرکوز ہے — “بحران کے اوقات میں انسانی اصولوں کا تحفظ اور انسانی امداد کی حمایت”۔ دنیا اس وقت متعدد انسانی بحرانوں جیسے جنگوں، ماحولیاتی تبدیلی، قدرتی آفات اور نقل مکانی کے مسائل سے دوچار ہے، ایسے میں IPU کی یہ کوشش عالمی سطح پر انسانی اقدار اور انسانی امداد کے نظام کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے۔
اجلاس کے پہلے روز مختلف سیشنز، مباحثوں اور پینل ڈسکشنز کا سلسلہ جاری رہا جن میں سینکڑوں پارلیمنٹیرینز، حکومتی عہدیداران اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے شریک ہوئے۔ IPU کی چار مستقل کمیٹیوں نے بھی اپنے مخصوص ایجنڈوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ ان کمیٹیوں میں اقوام متحدہ سے متعلق کمیٹی، امن و عالمی سلامتی کمیٹی، جمہوریت و انسانی حقوق کمیٹی اور پائیدار ترقی کمیٹی شامل ہیں۔ ان اجلاسوں میں تنازعات میں شہریوں کے تحفظ، عالمی تعاون کے فروغ، پائیدار ترقی کے اہداف اور انسانی حقوق کے مسائل پر تفصیلی بحث کی گئی۔
اسی دوران سعودی عرب کا شوریٰ وفد بھی مختلف اجلاسوں میں سرگرم نظر آیا۔ اسپیکر ڈاکٹر عبداللہ آل الشیخ نے اجلاس کے دوران متعدد ممالک کے پارلیمانی سربراہان سے دوطرفہ ملاقاتیں کیں جن میں اردن کے سینیٹ کے صدر فیصل الفایز، مراکش کی ایوانِ مشیروں کے صدر محمد ولد الرشید اور پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق شامل تھے۔ ان ملاقاتوں میں پارلیمانی تعاون، عرب دنیا کے اندر رابطوں کو مضبوط بنانے اور عالمی امور پر مشترکہ موقف اختیار کرنے کے حوالے سے اہم گفتگو ہوئی۔
ان ملاقاتوں کے دوران سعودی عرب کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ عرب ممالک کو IPU کے اندر اجتماعی انداز میں مؤثر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ علاقائی مسائل پر متحدہ موقف اپنایا جا سکے۔ ڈاکٹر آل الشیخ نے اس موقع پر اس بات کی بھی یاد دہانی کرائی کہ سعودی عرب عالمی سطح پر امن، استحکام اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کے فروغ کے لیے ہمیشہ سرگرم رہا ہے۔ انہوں نے مملکت کی جانب سے جاری انسانی امدادی منصوبوں، خاص طور پر کنگ سلمان ہیومینیٹرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر (KSRelief) کے کردار پر روشنی ڈالی جو دنیا کے مختلف بحران زدہ خطوں میں امداد فراہم کر رہا ہے۔
شوریٰ کونسل کے سیکرٹری جنرل محمد بن دخیل المطیری نے بھی اجلاس کے دوران عرب پارلیمنٹس کے سیکرٹریز جنرل کی ایسوسی ایشن کے اجلاس میں شرکت کی۔ اس اجلاس میں عرب پارلیمانی اداروں کے درمیان انتظامی و تکنیکی تعاون کو مضبوط بنانے، مشترکہ حکمتِ عملی وضع کرنے اور پارلیمانی نظام کی کارکردگی بہتر بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی سیکرٹری جنرل کی شمولیت نے مملکت کی اس ترجیح کو اجاگر کیا کہ وہ عرب دنیا میں پارلیمانی اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
اسی طرح شوریٰ کونسل کے دیگر ارکان نے بھی IPU کی چار مستقل کمیٹیوں کے اجلاسوں میں بھرپور حصہ لیا۔ ان اجلاسوں میں بین الاقوامی سلامتی، انسداد دہشت گردی، انسانی حقوق، جمہوری عمل اور ماحولیاتی استحکام جیسے موضوعات زیرِ بحث آئے۔ سعودی نمائندوں نے مختلف ممالک کے وفود سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے مملکت کے ترقیاتی وژن — سعودی وژن 2030 — کی روشنی میں عالمی تعاون، پائیدار ترقی اور شراکت داری کے اصولوں پر زور دیا۔
اجلاس کے موقع پر ڈاکٹر آل الشیخ نے عرب گروپ کے پارلیمانی اسپیکرز کی سطح پر ایک رابطہ اجلاس کی صدارت بھی کی۔ اس اجلاس میں عرب ممالک کے پارلیمانی رہنماؤں نے IPU میں زیرِ بحث قراردادوں پر مشترکہ موقف اختیار کرنے، عرب مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے اور عالمی سطح پر سفارتی تعاون بڑھانے کے حوالے سے حکمت عملی تیار کی۔ اس میٹنگ کو عرب دنیا کے لیے ایک متحد آواز پیش کرنے کی اہم کوشش قرار دیا گیا۔
شرکائے اجلاس نے IPU کی کاوشوں کو سراہا کہ اس فورم نے مختلف ممالک کے قانون سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے عملی حل نکالنے کی راہ ہموار کی ہے۔ سعودی عرب کے لیے ایسے اجلاس اس کی پارلیمانی سفارتکاری کے تسلسل کا حصہ ہیں، جو باہمی احترام، مکالمے اور عالمی تعاون پر مبنی خارجہ پالیسی کو فروغ دینے کی بنیاد ہے۔
اجلاس کے آئندہ مراحل میں متعدد قراردادیں منظور کیے جانے کا امکان ہے جو قومی پارلیمنٹس اور عالمی اداروں کے درمیان انسانی امداد کے شعبے میں تعاون کو مزید مؤثر بنانے میں کردار ادا کریں گی۔ اس طرح یہ اجلاس صرف مباحثوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسا عملی فورم ثابت ہو رہا ہے جو عالمی سطح پر مشترکہ پالیسی اپنانے کی راہ ہموار کرے گا۔
سعودی شوریٰ کونسل کا یہ فعال کردار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مملکت عالمی پارلیمانی دنیا میں اپنی شرکت کو محض رسمی حیثیت نہیں دیتی بلکہ اسے انسانیت، امن اور ترقی کے فروغ کے لیے ایک اخلاقی و انسانی فریضہ سمجھتی ہے۔ مختلف اجلاسوں میں قیادت، تجاویز اور عملی تعاون کے ذریعے سعودی عرب دنیا کے پارلیمانی منظرنامے میں ایک متوازن، تعمیری اور فعال شراکت دار کے طور پر نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔
