واشنگٹن / لندن:غزہ میں ممکنہ بین الاقوامی امن فورس کی تشکیل کے حوالے سے عالمی سطح پر سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انکشاف کیا ہے کہ متعدد ممالک غزہ کے لیے مجوزہ عالمی امن فورس میں شمولیت پر آمادہ ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق، بین الاقوامی برادری اب اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ غزہ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے محض سفارتی بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
مارکو روبیو نے اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے مغربی کنارے کے انضمام سے متعلق قانون سازی کو غزہ امن معاہدے کے لیے خطرناک پیش رفت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات نہ صرف خطے کے مذاکراتی عمل کو متاثر کر سکتے ہیں بلکہ عالمی امن کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
اسی دوران، امریکا کی درخواست پر برطانوی فوجیوں کی ایک محدود تعداد کو اسرائیل میں تعینات کر دیا گیا ہے، جو غزہ امن منصوبے کی نگرانی اور انسانی امداد کے فریم ورک پر عملدرآمد میں مدد فراہم کرے گی۔
برطانوی میڈیا کے مطابق، ایک سینئر کمانڈر کی قیادت میں یہ فوجی دستہ امریکی ماہرین کے ساتھ مل کر میدان میں کام کرے گا، جس کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کے انتظامات اور بحالی کے اقدامات کی نگرانی ہے۔
امریکی سینٹ کام (CENTCOM) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ غزہ امن منصوبے کے تحت تعینات کیے جانے والے 200 فوجیوں میں کوئی امریکی اہلکار شامل نہیں ہوگا۔ ان کے بقول، یہ مشن خالصتاً انسانی امداد اور بین الاقوامی تعاون کے تحت انجام دیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، واشنگٹن اور لندن کے یہ اقدامات اس بات کی واضح علامت ہیں کہ غزہ میں بین الاقوامی فورس کی بنیاد رکھنے کی تیاریوں کا ابتدائی مرحلہ شروع ہو چکا ہے جو مستقبل میں جنگ بندی کے نفاذ، انسانی بحالی اور غزہ کے سیاسی استحکام کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
