امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر مغربی کنارے کے علاقوں کو ضم کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتیجے میں اسرائیل کو امریکہ کی مکمل حمایت سے محروم ہونا پڑے گا۔ یہ انتباہ ایک اہم عالمی سیاسی پیغام ہے، جو مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدگی کو مزید پیچیدہ کر سکتا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی رہنماؤں کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ مغربی کنارے کے ضم کے حامی کسی بھی اسرائیلی اقدام کو تسلیم نہیں کریں گے۔ اس بیان میں امریکی صدر نے واضح کیا کہ امریکہ کی حمایت حاصل کرنے کے لئے اسرائیل کو اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانی ہوگی۔
امریکی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا عرب ممالک کے ساتھ معاہدہ ہے، اور اس معاہدے کے تحت ایسی کسی بھی کارروائی کی اجازت نہیں دی جا سکتی جس سے مشرق وسطیٰ کی سیاسی صورتحال مزید بگڑ جائے۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے عرب ممالک سے بڑی حمایت حاصل کی ہے، اور اس حمایت کو بچانے کے لیے مغربی کنارے کے ضم کو روکا جائے گا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے مغربی کنارے کے متعدد علاقوں کو ضم کرنا شروع کر دیا ہے، جس پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ اسرائیل نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اقدامات کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ امریکہ نے اسرائیل کو اس سلسلے میں سخت انتباہ دیا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ اگر اسرائیل نے مغربی کنارے کو ضم کرنے کی کوشش کی، تو امریکہ کی جانب سے دی جانے والی مکمل حمایت اسرائیل سے واپس لے لی جائے گی۔ اس بیان کے ذریعے امریکہ نے اسرائیل کو سخت پیغام دیا ہے کہ مغربی کنارے میں ہونے والی کوئی بھی تبدیلی نہ صرف خطے کی سیاست بلکہ عالمی تعلقات پر بھی سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
