سعودی عرب کی فلمی صنعت اس وقت اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے، جہاں ثقافتی تبدیلی اور وژن 2030 کے تحت تخلیقی شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری نے اس شعبے کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔ سعودی فلم کانفیکس (Saudi Film Confex) اسی ترقی کا ایک نمایاں مظہر بن کر سامنے آیا ہے، جو نہ صرف فلم سازی کے شائقین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتا ہے بلکہ عالمی توجہ کا مرکز بھی بن چکا ہے۔
فلم کمیشن کے سی ای او عبداللہ القحطانی کے مطابق، سعودی فلم کانفیکس کا قیام اس وقت عمل میں آیا جب مملکت کی فلمی صنعت نے غیر معمولی رفتار سے ترقی شروع کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پلیٹ فارم دراصل فلم سازوں، پروڈیوسرز، قانون سازوں، سرمایہ کاروں اور تربیتی اداروں کو ایک ساتھ لانے کے لیے بنایا گیا تاکہ وہ صنعت کے مسائل پر گفتگو کریں اور نئے مواقع کے دروازے کھول سکیں۔
القحطانی نے سعودی پریس ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب کا سینما کا سفر ناقابلِ یقین حد تک تیز رہا ہے۔ کچھ ہی سال پہلے ملک میں ایک بھی سنیما ہال نہیں تھا، مگر 2018 میں سنیما انڈسٹری کی بحالی کے بعد سے اب تک نو کروڑ سے زائد ٹکٹ فروخت ہو چکے ہیں، جن سے مجموعی آمدنی تقریباً پانچ ارب سعودی ریال تک پہنچ گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ ترقی وژن 2030 کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے جس کے تحت مملکت نے معیشت میں تنوع اور ثقافتی و تفریحی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر توجہ دی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں میں ٹکٹوں کی فروخت اور آمدنی میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ 2020 میں جہاں فروخت تقریباً 60 لاکھ ٹکٹوں تک محدود تھی، وہیں 2024 کے اختتام تک یہ تعداد 1 کروڑ 70 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ اسی طرح باکس آفس آمدنی میں بھی 90 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو 2020 میں 44 کروڑ 50 لاکھ ریال سے بڑھ کر 2024 میں 84 کروڑ 50 لاکھ ریال تک جا پہنچی۔ ان کے مطابق یہ اضافہ صرف ناظرین کے بڑھتے ہوئے شوق کا نہیں بلکہ اس مضبوط نظام کا ثبوت ہے جو اب عالمی فلمی اداروں کو سعودی مارکیٹ کی طرف متوجہ کر رہا ہے۔
القحطانی نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ مقامی فلموں نے اس ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ سعودی فلموں کی فروخت 2020 میں 1 کروڑ 30 لاکھ ریال سے بڑھ کر اب 12 کروڑ ریال سے تجاوز کر چکی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملکی فلم سازوں پر عوام کا اعتماد بڑھا ہے اور ان کی کہانیوں نے ناظرین کے دل جیت لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعتماد حکومت کی معاونت، تربیتی پروگراموں اور فلم کمیشن کے اس کردار کا نتیجہ ہے جو سرمایہ کاروں اور فلم سازوں کے درمیان پل کا کام کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس سال کا سعودی فلم کانفیکس ماضی کے مقابلے میں زیادہ وسیع اور جامع ہے۔ "A Gathering That Transforms the Scene” کے عنوان کے تحت ہونے والے اس ایونٹ میں 35 ممالک کے 135 نمائندے شریک ہیں، جبکہ 60 سے زائد بین الاقوامی ماہرین اپنی آراء پیش کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 50 خصوصی ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا ہے جن میں فلمی تکنیک، کہانی نویسی، مارکیٹنگ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔
اس ایونٹ میں ان اہم موضوعات پر بھی غور کیا جا رہا ہے جو مستقبل کی فلم انڈسٹری کی بنیاد رکھتے ہیں۔ ان میں دانشورانہ ملکیت کے حقوق (Intellectual Property Rights)، فلم سازی میں مصنوعی ذہانت (AI) کا کردار، فلمی تقسیم کے چیلنجز، انشورنس، پروڈکشن اور فنانسنگ کے نئے ماڈلز شامل ہیں۔ القحطانی کے مطابق ان موضوعات پر مکالمہ اس لیے ضروری ہے تاکہ سعودی عرب نہ صرف معیاری فلمیں بنائے بلکہ ایک پائیدار اور عالمی معیار کی فلمی معیشت بھی تشکیل دے سکے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ فلم کانفیکس دراصل تخلیقی ذہنوں اور سرمایہ کاروں کے درمیان تعلقات مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہاں تجربہ کار فلم سازوں کو نئے ٹیلنٹ سے ملنے اور بین الاقوامی شراکت داری قائم کرنے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ فلم کمیشن کا مقصد ایک ایسا مربوط فلمی ماحولیاتی نظام (ecosystem) تیار کرنا ہے جو نہ صرف عالمی فلم اسٹوڈیوز کو مملکت میں سرمایہ کاری کی ترغیب دے بلکہ مقامی فلم سازوں کو بھی عالمی سطح پر متعارف کرائے۔
القحطانی نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ سعودی فلم کانفیکس کی کامیابی صرف نمبروں یا شرکت کرنے والے ممالک کی تعداد سے نہیں ناپی جا سکتی، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مملکت اب مشرقِ وسطیٰ میں فلمی صنعت کی قیادت کر رہی ہے۔ جدید انفراسٹرکچر، پالیسی اصلاحات، اور ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ کے ذریعے سعودی عرب نے خود کو عالمی فلمی منظرنامے میں ایک طاقتور فریق کے طور پر منوایا ہے۔
چند برسوں میں جو ملک بغیر سینما کے تھا، آج وہ عرب دنیا کا فلمی مرکز بن چکا ہے۔ سعودی فلم کانفیکس نہ صرف اس تبدیلی کی علامت ہے بلکہ ایک پیغام بھی — کہ سعودی عرب کی فلمی صنعت محض ترقی نہیں کر رہی، بلکہ وہ تخلیقی اظہار اور عالمی سنیما کی نئی سمت متعین کر رہی ہے۔
